سانحہ چک سیدا پورہ: کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی بربریت کے 34 برس مکمل

سانحہ چک سیدا پورہ: کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی بربریت کے 34 برس مکمل

Oct 10, 2026|ویب ڈیسک


**سرینگر:** مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ بے گناہ شہریوں کے خون اور لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے، جہاں 10 اکتوبر 1992 کو شوپیاں کے گاؤں چک سیدا پورہ میں پیش آنے والا دلخراش سانحہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کے مظلوم آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔


تین دہائیاں قبل پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے میں قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر 9 کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ درندگی کا نشانہ بننے والی مظلوم خواتین میں 11 سالہ کمسن بچی سے لے کر 60 سالہ بزرگ خاتون تک شامل تھیں۔


واقعے کے فوری بعد شوپیاں کے ضلعی اسپتال میں کروائے گئے طبی معائنے میں خواتین کے ساتھ درندگی کے ناقابلِ تردید اور قوی شواہد سامنے آئے تھے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس انسانیت سوز واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری عدالتی انکوائری اور سزاؤں کا مطالبہ کیا تھا، تاہم قابض بھارتی انتظامیہ نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کو بچانے کے لیے معاملے کو پسِ پشت ڈال دیا۔


مبصرین کا کہنا ہے کہ چک سیدا پورہ کا دلخراش واقعہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے لیے ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ کشمیری قوم اپنے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے دہائیوں سے کس قدر بھاری قیمت چکا رہی ہے۔