8 اکتوبر کے قیامت خیز زلزلے کو 21 برس مکمل، غم تاحال تازہ
**مظفرآباد:** آزاد جموں و کشمیر سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے قیامت خیز زلزلے کو 21 سال بیت گئے، مگر اس دلخراش سانحے کی تلخ یادیں اور پیاروں کو کھونے کا غم آج بھی متاثرین کے دلوں میں تازہ ہے۔
تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان برداشت کرنے والے کشمیری شہری دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اس اندوہناک آفت کو فراموش نہیں کر سکے۔ مقامی آبادی کے مطابق سانحے کی اس تاریک اور اعصاب شکن گھڑی میں پاک فوج کے جوان سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
آزاد کشمیر کے شہریوں نے امدادی سرگرمیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو بے بس دیکھ رہے تھے، تب پاک فوج کے جوان ان کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ عسکری اہلکاروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملبے تلے دبے افراد کو باحفاظت نکالنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے شب و روز متحرک کردار ادا کیا۔
عوامی حلقوں کے مطابق 8 اکتوبر 2005 کے سانحے کے بعد پاک فوج نے جس بے مثال جذبے اور تندہی سے متاثرین کی دستگیری کی، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس تاریخی اقدام نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے۔