خیبرپختونخوا کا شعبہ تعلیم مبینہ کرپشن اور نااہلی کے باعث بحران کا شکار

خیبرپختونخوا کا شعبہ تعلیم مبینہ کرپشن اور نااہلی کے باعث بحران کا شکار

Oct 23, 2026|ویب ڈیسک


پشاور (نیوز ڈیسک): خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ اقتدار کے دوران مبینہ نااہلی اور کرپشن کے باعث شعبہ تعلیم شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس سے صوبے کے لاکھوں طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے کرپشن کے خاتمے کے دعوؤں کے برعکس محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 25-2024 کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز میں مبینہ خرد برد اور بے ضابطگیاں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اساتذہ کی بھرتیوں، ٹیبلٹس کی فراہمی اور دیگر خریداریوں کے عمل میں قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی من مانی ادائیگیاں کی گئیں۔

دوسری جانب، صوبے بھر میں بنوں سے ہری پور تک سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جب کہ اسکولوں کی مرمت، بحالی اور تعمیر کے لیے مختص فنڈز مبینہ طور پر کرپشن کی نذر ہو گئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ اور بونیر سمیت مختلف اضلاع میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے سے متعدد کلاس رومز ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہونے اور تدریسی عمل معطل ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔