مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، یکطرفہ بیانات متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے: غلام محمد صفی
مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، یکطرفہ بیانات متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے: غلام محمد صفی
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس (APHC) کے کنوینر غلام محمد صفی اور حریت قیادت نے بھارت میں متعین امریکی سفیر سیرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق متنازع بیان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کو "بھارت کا اہم حصہ" قرار دینا تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے سراسر منافی ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں اور کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت
حریت قیادت نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازع ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ فوجی تسلط، طاقت کے استعمال یا یکطرفہ سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری سے ہوگا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اصولی مؤقف اپناتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان کو مسترد کیا ہے۔
حریت کنوینر غلام محمد صفی کے اہم نکات:
حقِ خودارادیت سے انحراف کی کوشش: "امریکی سفیر کا مؤقف کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے اور خود امریکی قیادت کے بیانات سے تضاد رکھتا ہے۔"
بین الاقوامی قانون کی بالادستی: "سیاسی یا سفارتی مصلحتیں تاریخ کے مسلمہ حقائق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی باقاعدہ قراردادوں کی قانونی حیثیت کو زائل نہیں کر سکتیں۔"
5 اگست 2019 کے اقدامات کی نفی: "بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود جموں و کشمیر کا بین الاقوامی اسٹیٹس تبدیل نہیں ہوا۔"
عوامی امنگوں کا احترام: "کشمیر کسی ملک کی جاگیر نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے بنیادی سیاسی مستقبل کا معاملہ ہے۔"
امریکی حکومت سے خارجہ پالیسی کے اصولوں پر نظرثانی کا مطالبہ
حریت قیادت نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ سفارتی بیانات میں احتیاط برتے اور اپنی علاقائی پالیسی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بنیادی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ کرے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنے بنیادی پیدائشی حق کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے