مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے نہ کبھی ہوگا: مشعال ملک کا امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل
مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے نہ کبھی ہوگا: مشعال ملک کا امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل
اسلام آباد: کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن مشعال حسین ملک نے بھارت میں امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق متنازع بیان پر سخت اور دوٹوک ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی قوانین کی اہمیت
مشعال ملک نے اپنے بیان میں زور دیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کی حیثیت کسی بھی ملک کے یکطرفہ دعووں یا سیاسی بیانات سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور قربانیوں کو پسِ پشت ڈالنے کی ناکام کوشش ہیں۔
مشعال ملک کے اہم اور بنیادی نکات:
حقِ خودارادیت کا دفاع: "امریکی سفیر نے اپنے بیان کے ذریعے کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔"
بین الاقوامی قانون اور تاریخ: "سیاسی اور سفارتی بیانات نہ تو تاریخ کے حقائق کو مٹا سکتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کی حیثیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔"
عوامی امنگوں کی اہمیت: "جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ طاقت کے زور پر نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہی ہوگا۔"
یو این ایس سی قراردادیں: "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی تاریخی قراردادیں آج بھی تنازعہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل کی واحد قانونی بنیاد ہیں۔"
یکطرفہ سفارت کاری سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے
مشعال ملک نے اختتام پر کہا کہ مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور کشمیری عوام کی قربانیاں ایک روشن حقیقت ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی سفارت کار کا غیر ذمہ دارانہ بیان زمینی حقائق اور تنازعے کی بین الاقوامی حیثیت کو بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا