مون سون 2026: گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی کے پی میں معمول کی بارشیں، گلیشیئرز پگھلنے کا خدشہ

مون سون 2026: گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی کے پی میں معمول کی بارشیں، گلیشیئرز پگھلنے کا خدشہ

Jul 14, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان محکمہ موسمیات نے مون سون 2026 کے لیے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے خطے کا تفصیلی موسمی جائزہ جاری کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں رواں سیزن کے دوران معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے، تاہم اوسط سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ پیش گوئی بین الاقوامی موسمیاتی اداروں بشمول ICIMOD، APCC، یورپی یونین کی کوپرنیکس سروس (C3S)، اور SASCOF کے ڈیٹا سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جو شمال مغربی ہمالیائی خطے میں معمول کے مطابق بارشوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور دریاؤں میں سیلابی صورتحال کا خطرہ

موسمیاتی جائزے کے مطابق، رواں سال پورے شمالی خطے میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کے مشرقی اضلاع میں اوسط درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

شدید گرمی کی یہ لہر پہاڑی چوٹیوں پر موجود برف اور صدیوں پرانے گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلا سکتی ہے، جس سے دریاؤں اور مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ محکمہ موسمیات نے بلند پہاڑی علاقوں اور حساس وادیوں میں آباد مقامی آبادیوں کو پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اہم ترین خدشات اور متوقع قدرتی آفات 

گلیشیائی جھیلوں کا پھٹنا (GLOFs): گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پہاڑی جھیلوں میں پانی کا دباؤ بڑھے گا جو پھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلے: بارشوں اور برف پگھلنے سے مٹی اور ڈھلوانیں کھسکنےکے واقعات کا خطرہ ہے۔

مقامی سیلاب (Flash Floods): تیز رفتار بارش اور دریاؤں میں طغیانی مقامی سطح پر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

ترجمان محکمہ موسمیات نے ندی نالوں، دریاؤں کے کناروں اور کھڑی ڈھلوانوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ مون سون کے دوران شدید الرٹ رہیں۔ پہاڑی مقامات پر سیاحت کے لیے جانے والے افراد اور مقامی رہائشیوں کو موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگرچہ مون سون 2026 کا پانی ملک میں زراعت اور پن بجلی کی پیداوار کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہو گا، لیکن مقامی سطح پر ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (NDMA اور PDMAs) کو مسلسل نگرانی اور ہنگامی تیاری مکمل رکھنے کی ضرورت ہے