شہدائے 13 جولائی کا مشن حقِ خودارادیت تک جاری رہے گا: حریت کانفرنس

شہدائے 13 جولائی کا مشن حقِ خودارادیت تک جاری رہے گا: حریت کانفرنس

Jul 13, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد میں یومِ شہدائے کشمیر پر سیمینار: سابق صدر آزاد کشمیر، سینیٹرز اور حریت قیادت کا مشترکہ خطاب

​اسلام آباد (ویب ڈیسک): کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) آزاد جموں و کشمیر و پاکستان اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اسلام آباد میں ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں 13 جولائی 1931 کے عظیم شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت حریت کانفرنس کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی۔

​سیمینار سے سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی، سابق صوبائی وزیر فرزانہ یعقوب سمیت متعدد سیاسی، سماجی اور کشمیری رہنماؤں نے خطاب کیا۔

جولائی 1931 کی تاریخی اہمیت اور ڈوگرہ راج

​مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ 13 جولائی جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سنگِ میل ہے جس نے تحریکِ آزادی کی بنیاد رکھی۔ اہم تاریخی نکات درج ذیل ہیں:

​22 فرزندانِ توحید کی شہادت: سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر اذان کی تکمیل اور حق کی آواز بلند کرنے پر ڈوگرہ فوج نے 22 کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

​تحریکِ حریت کو نئی طاقت: ان عظیم قربانیوں نے کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو وہ قوت بخشی جو آج بھی قائم ہے۔

​بھارتی فوجی تسلط: 1947 میں ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد بھارت نے طاقت کے بل بوتے پر وادی پر ناجائز قبضہ کیا اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔

ہندوتوا پالیسیاں اور آبادیاتی تناسب کی تبدیلی

​سیمینار کے دوران بھارتی حکومت، بالخصوص نریندر مودی کی موجودہ ہندوتوا پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی:

​مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی کارکنوں، حریت قیادت اور عام شہریوں پر بدترین ریاستی جبر جاری ہے۔

​آبادیاتی تناسب (Demographics) میں تبدیلی: مسلم اکثریت والے خطے کو دانستہ طور پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم اور غیر قانونی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

​مقررین نے عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مطالبات

​حریت قیادت اور دیگر رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے درج ذیل مطالبات کیے:

​وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت قتل کا فوری نوٹس لیا جائے۔

​حریت قیادت اور کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاریوں اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرایا جائے۔

​بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت مل سکے۔