عسکری قیادت کے دورہ تہران کا آزاد کشمیر کے شہریوں کی جانب سے بھرپور خیرمقدم

عسکری قیادت کے دورہ تہران کا آزاد کشمیر کے شہریوں کی جانب سے بھرپور خیرمقدم

Aug 27, 2026|ویب ڈیسک

​مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں، طلبہ، نوجوانوں اور بزرگ عمائدین نے پاکستانی عسکری قیادت کے حالیہ دورہ تہران کو خطے میں پائیدار امن، سفارتی استحکام اور پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک بروقت اور مؤثر پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ کشمیری عوام کے مطابق کشیدگی کے موجودہ ماحول میں پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کو ترجیح دے کر ایک ذمہ دار ریاست کا کردار نبھایا ہے۔

علاقائی سفارت کاری اور تہران-واشنگٹن کشیدگی میں کمی

​آزاد کشمیر کے شہریوں نے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہا:

​امن اور بات چیت کی ترجیح: شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی؛ موجودہ بحرانی صورتِ حال میں پاکستان کا امن اور مذاکرات کا پیغام قابلِ ستائش ہے۔

​ایران-امریکا مفاہمت میں تعمیری کردار: ایران اور امریکا کے مابین تناؤ کم کرانے کے لیے پاکستان کے مثبت اقدامات اس کے فعال اور معتبر علاقائی سفارتی کردار کا واضح ثبوت ہیں۔

​آبنائے ہرمز اور توانائی کا تحفظ: شہریوں نے واضح کیا کہ عالمی تجارت، تجارتی راستوں اور توانائی کی بلاتعطل ترسیل کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

پاک ایران دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک استحکام

​عسکری قیادت کا یہ دورہ دونوں برادر مسلم ممالک کے مابین مشترکہ سرحدوں کے تحفظ، تجارتی ہم آہنگی اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو مضبوط بنانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے:

​دوطرفہ اعتماد کی بحالی: تہران میں اعلیٰ سطح کی بات چیت سے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔

​پائیدار امن کی ضمانت: عوامی حلقوں کا متفقہ مؤقف تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی تصادم کا حصہ بننے کے بجائے مفاہمت اور پائیدار استحکام کا حقیقی ضامن ہے۔

خطے کے مفاد میں تعمیری پیش رفت

​آزاد جموں و کشمیر کے تمام مکاتبِ فکر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کی خوشحالی اور اقتصادی تحفظ کا دارومدار پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون پر ہے، جس کے لیے پاک فوج کی قیادت کے عملی اقدامات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔