جبری گمشدگیوں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے شکار ہزاروں کشمیریوں کے لواحقین انصاف کے منتظر

جبری گمشدگیوں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے شکار ہزاروں کشمیریوں کے لواحقین انصاف کے منتظر

Aug 30, 2026|ویب ڈیسک

​سری نگر/اسلام آباد (ویب ڈیسک) — دنیا بھر میں جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت اغوا اور حراست کے دوران لاپتہ ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کی مائیں اور لواحقین آج بھی غم کی تصویر بنے اپنے پیاروں کی واپسی اور انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

​ 1989 سے جاری ریاستی جبر اور بے نام اجتماعی قبروں کا المیہ

​کشمیر میڈیا سروس (KMS) اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ وادی میں 1989 کے بعد سے بھارتی فوج، پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں اور غیر قانونی حراست میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں دریافت ہونے والی ہزاروں اجتماعی و بے نام قبروں کے بارے میں حقوقِ انسانی کے ماہرین کو شدید خدشہ ہے کہ ان میں دورانِ حراست شہید کیے گئے لاپتہ کشمیریوں کو دفنایا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی بدترین صورتحال اور اہم نکات

​5 اگست 2019 کے بعد جبر میں شدت: مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں کریک ڈاؤن، چھاپوں اور بلاجواز حراستوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

​ماؤں کا نہ ختم ہونے والا انتظار: 'ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز' (APDP) سے وابستہ مائیں دہائیوں سے اپنے گمشدہ بیٹوں کے حق میں صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں۔

​عالمی اداروں کے مطالبات: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل متعدد بار مقبوضہ وادی میں دورانِ حراست ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر چکی ہے۔

​عالمی برادری اور انسانی حقوق کے محافظ اداروں کی خاموشی کے باعث بھارتی فورسز مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاخوف و خطر سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں۔