منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام

منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار امن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام

Aug 15, 2026|ویب ڈیسک

​ کانگ پوکپی میں ناگا گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ، 9 مکانات نذرِ آتش، سکیورٹی فورسز کی خاموشی پر سوالات

​نئی دہلی / امپھال (ویب ڈیسک): بھارتی ریاست منی پور ایک بار پھر نسلی تشدد کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ مودی سرکار کی یک طرفہ اور متنازع پالیسیوں کے باعث ریاست میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں اور مقامی قبائل کے بنیادی حقوق شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

​ مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ اور مکانات کو نذرِ آتش کرنے کے لرزہ خیز مناظر

​بھارتی روزنامے "دکن کرونیکل" کی رپورٹ کے مطابق، ریاست منی پور کے حساس ضلع کانگ پوکپی میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک ناگا گاؤں پر اچانک دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے پہلے شدید فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلایا اور بعد ازاں کم از کم 9 مکانات کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس وحشیانہ کارروائی کے بعد ریاست کے پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔

​اہم حقائق اور اہم نکات (Key Takeaways):

​بروقت امداد کی عدم فراہمی: مقامی عینی شاہدین کے مطابق، ہنگامی کالز اور اپیلوں کے باوجود قریبی علاقے میں موجود سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور ریاستی پولیس نے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی۔

​سرکاری پالیسیوں پر تنقید: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی قیادت کی غیر متوازن حکمتِ عملی نے خطے میں نسلی خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔

​عالمی اداروں کا مؤقف: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا ہے کہ بی جے پی حکومت منی پور میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور خونریزی روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

مودی دورِ حکومت میں بڑھتا ہوا اندرونی خلفشار

​سیاسی مبصرین کے مطابق، منی پور کے حالیہ واقعات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ موجودہ حکومتی دور میں بھارت بھر میں داخلی انتشار، علاقائی تنازعات اور خود مختاری کے مطالبات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں۔