طالبان کے پانچ سالہ اقتدار میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں، خواتین پر مظالم کا نیا باب
اقوامِ متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس نے افغان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا
کابل / نیویارک (ویب ڈیسک): افغانستان میں طالبان رجیم کے اقتدار کو پانچ برس مکمل ہو گئے ہیں، جو عالمی اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی پامالیوں اور سنگین معاشی و سماجی تنزلی کا سیاہ ترین دور ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے متفقہ طور پر واضح کیا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے افغان معاشرے خصوصاً خواتین کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف سے مکمل طور پر محروم کر دیا ہے۔
یو این ویمن کی رپورٹ: خواتین کے خلاف 100 سے زائد امتیازی احکامات
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کی تازہ ترین دستاویز کے مطابق طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک خواتین کے خلاف 100 سے زائد امتیازی احکامات جاری کیے۔
طبی و تعلیمی شعبے کا بحران: تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے سبب 2030 تک ملک میں 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز کی شدید کمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
نفسیاتی دباؤ اور عدم تحفظ: مسلسل پابندیوں کے باعث 70 فیصد سے زائد افغان خواتین شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، جبکہ تین چوتھائی سے زیادہ خواتین گھروں سے باہر نکلنے کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔
قانونی برابری کا خاتمہ: نام نہاد فوجداری ضوابط کے ذریعے خواتین کی عدالتوں اور قانونی چارہ جوئی تک رسائی عملی طور پر ناممکن بنا دی گئی ہے۔
یوناما کا انکشاف: ماورائے عدالت گرفتاریاں، ہلاکتیں اور شدید غذائی بحران
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خطے میں جاری جبر اور انسانی بحران کی ہولناک تفصیلات جاری کی ہیں:
کلیدی حقائق و اہم نکات (Key Takeaways):
ڈریس کوڈ کے نام پر کریک ڈاؤن: 6 سے 8 جون کے دوران صوبہ ہرات میں مبینہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر طالبان اہلکاروں نے 2 خواتین کو قتل اور 30 کو گرفتار کیا۔
سابق سکیورٹی اہلکاروں کا استحصال: اپریل سے جون کے دوران کم از کم 29 سابق افغان فوجیوں کو حراست میں لیا گیا، 8 کو قتل جبکہ 5 کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
شدید غذائی قلت: ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق بدانتظامی کے سبب 37 لاکھ بچے اور 12 لاکھ حاملہ خواتین بھوک اور غذائی قلت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
بے احتسابی کا دور: ہیومن رائٹس واچ کی محققہ فرشتہ عباسی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کے پانچ سال بلا احتساب ظلم اور تباہ کن نتائج کی علامت بن چکے ہیں۔