طالبان کے پانچ سالہ اقتدار میں آزاد صحافت کا مکمل خاتمہ، سنسرشپ نافذ
ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں صحافیوں پر تشدد، جبری گرفتاریوں اور خواتین کی بے دخلی کا پردہ چاک
کابل / واشنگٹن (ویب ڈیسک): افغانستان میں طالبان رجیم کے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اختلافِ رائے کو کچلنے اور آزاد میڈیا کی آواز دبانے کی منظم مہم عروج پر پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ کے مانیٹرنگ مشنز کی تازہ رپورٹس کے مطابق، طالبان حکومت نے کڑی سنسرشپ، دھمکیوں اور پرتشدد ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک کے آزاد صحافتی منظرنامے کو مفلوج کر دیا ہے۔
خواتین صحافیوں کی جبری بے دخلی اور میڈیا اداروں کی بندش
عالمی جریدے "ماڈرن ڈپلومیسی" اور ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی رپورٹس کے مطابق طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی تنقیدی صحافت پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کیں:
خواتین میڈیا ورکرز کا صفایا: سخت گیر پالیسیوں کے باعث ملک کی تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر پیشے سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا اداروں کی بندش: بنیادی حقوق پر قدغنوں اور مالیاتی پابندیوں کے سبب سینکڑوں ریڈیو اسٹیشنز، اخبارات اور نیوز ایجنسیاں بندش کا شکار ہو چکی ہیں۔
آزاد آوازوں کو سزائیں: ہیومن رائٹس واچ کی محققہ فرشتہ عباسی کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والے صحافیوں کو نشانہ عبرت بنانے کے لیے سخت سزاؤں اور بدترین حراستی تشدد کا سہارا لیا۔
اقوامِ متحدہ کے شواہد، جعلی پروپیگنڈا اور صحافت کا مستقبل
اقوامِ متحدہ کے افغان مشن (UNAMA) کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق، اب تک 336 صحافیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جبکہ 256 صحافیوں کی بلاجواز و غیر قانونی گرفتاریاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
اہم حقائق اور کلیدی نکات (Key Takeaways):
منظم پروپیگنڈا نیٹ ورکس: تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق چھپانے کے لیے بین الاقوامی میڈیا کو بلیک آؤٹ کر کے سوشل میڈیا پر بوٹس اور جعلی افغان اکاؤنٹس کے ذریعے یک طرفہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔
ریاستی جبر کو چھپانے کی کوشش: آزاد صحافت پر قدغنوں کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پرتشدد پالیسیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
مزاحمت کی علامت: افغان نشریاتی ادارے کے سربراہ سعد محسینی نے واضح کیا ہے کہ بے پناہ دباؤ اور پابندیوں کے باوجود افغانستان کے جمہوری مستقبل اور شفافیت کے لیے آزاد میڈیا کا وجود ناگزیر ہے۔