چوہدری لطیف اکبر کا انتخابات میں دھاندلی کا الزام، 45 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا مطالبہ

چوہدری لطیف اکبر کا انتخابات میں دھاندلی کا الزام، 45 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا مطالبہ

Aug 5, 2026|ویب ڈیسک

​مظفرآباد — پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری لطیف اکبر نے حالیہ انتخابات کے نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے الیکشن میں سنگین بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی پی رہنما نے الیکشن کمیشن سے 45 پولنگ اسٹیشنز پر فوری طور پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

​چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں 97 سے 99 فیصد تک پولنگ ہونا ناممکن ہے، جبکہ ایک ہی یونین کونسل کے ایک پولنگ اسٹیشن پر 99 فیصد اور ملحقہ اسٹیشن پر محض 20 فیصد ٹرن آؤٹ دھاندلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ن لیگ کے امیدوار کے حق میں ایک طرفہ طور پر 19 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے اور متعدد مقامات پر مخالف امیدواروں کا ایک بھی ووٹ ظاہر نہیں کیا گیا۔

​پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ پولنگ کے دن انٹرنیٹ، بجلی اور موبائل سروسز معطل رکھی گئیں جس کے باعث دیہی علاقوں کے عوام وقت میں توسيع کے اعلانات سے محروم رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلے سے مہر لگے ہوئے بیلٹ پیپرز ضبط کر کے الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

​انہوں نے واضح کیا کہ 45 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ اور ووٹوں کے فرانزک اڈٹ کے لیے تمام ثبوتوں کے ساتھ درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے انصاف فراہم نہ کیا تو معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جایا جائے گا۔