یومِ دفاع: غازیانِ جنگ کا قومی یکجہتی کا پیغام، شہداء کو خراجِ عقیدت
یومِ دفاع: غازیانِ جنگ کا قومی یکجہتی کا پیغام، شہداء کو خراجِ عقیدت
مظفرآباد — یومِ دفاع و شہداء کے پروقار موقع پر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے 1965 کی جنگ کے غازیوں نے محاذِ جنگ کی سنسنی خیز داستانیں بیان کر کے پوری قوم کا لہو گرما دیا ہے۔ غازیانِ وطن نے شہداء کی لازوال قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کو اتحاد، یگانگت اور حب الوطنی کا مضبوط پیغام دیا ہے۔
ان سرفروشوں کا ماننا ہے کہ مادرِ وطن کی خاطر جان نچھاور کرنے کا وہ جذبہ آج بھی زندہ ہے، اور قوم کو چاہیے کہ وہ شہداء کی ان قربانیوں کو ہمیشہ اپنے دلوں میں بسائے رکھے۔
سلیمانکی سیکٹر کی فتح: عوام اور فوج کا اٹوٹ رشتہ
میدانِ جنگ کے تجربات شیئر کرتے ہوئے کیپٹن رب نواز غازی نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جنگ میں حتمی کامیابی فوج اور عوام کے باہمی اتحاد، اعتماد اور بلند حوصلے کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے 1965 کی جنگ کا ایک اہم معرکہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس قومی اتحاد نے جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا:
"ہماری لڑائی جب شدت اختیار کر گئی، تو یہ عوام کی بھرپور حمایت اور دعائیں ہی تھیں جن کی بدولت ہم نے سلیمانکی سیکٹر میں دشمن کی مضبوط دفاعی پوزیشنوں کو تہس نہس کر دیا اور اس اہم علاقے کو فتح کیا۔"
چونڈہ کا محاذ: 'جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں'
چونڈہ کا محاذ 1965 کی جنگ میں ٹینکوں کی تاریخ ساز لڑائی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ صوبیدار یار محمد غازی نے 6 ستمبر کی اس رات کا احوال بیان کیا جب اچانک جنگ مسلط کر دی گئی۔ ان کی یونٹ کو فوری طور پر چونڈہ کے محاذ پر پہنچنے اور دفاع یقینی بنانے کا ٹاسک سونپا گیا، جسے انہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر نبھایا۔
صوبیدار یار محمد غازی کے الفاظ آج بھی عسکری حکمتِ عملی اور قومی غیرت کا نچوڑ ہیں:
"یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جنگیں محض جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبے، غیرت اور حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔"
"عوام کی بے لوث حمایت فوج کے حوصلوں کو فولاد بناتی ہے، جبکہ شہداء کا بہنے والا خون قوم کے ماتھے کا جھومر اور تاحیات باعثِ فخر رہتا ہے۔"
یومِ دفاع کے اس موقع پر تمام غازیوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ ملکی بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہداء کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں ہونے دیا جائے گ