”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے خالق، مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان کی برسی

”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے خالق، مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان کی برسی

Jul 10, 2026|ویب ڈیسک

​بیس کیمپ کے مرکزی معمار نے تحریکِ آزادی کو پائیدار اور ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کیں؛ عزم و استقامت کی یادگار کا دن

​مظفرآباد: بیس کیمپ برائے آزادیِ کشمیر کے مرکزی معمار، مجاہدِ اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ 10 جولائی محض ایک برسی کا دن نہیں، بلکہ کشمیریوں کے عزم، لازوال قربانیوں اور تاریخی استقامت کی یاد کا دن ہے۔ مجاہدِ اول نے اپنی بے مثال قیادت، تدبر اور انقلابی نظریات سے پوری کشمیری قوم کو بیدار کیا۔

​نیلا بٹ کی چوٹیوں سے شروع ہونے والا سفرِ آزادی

​سردار محمد عبدالقیوم خان نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو ایک منظم اور پائیدار ادارہ جاتی شکل دی۔ انہوں نے 23 اگست 1947 کو 'نیلا بٹ' کی تاریخی چوٹیوں سے ڈوگرہ راج کے خلاف آزادی کی جدوجہد کا پہلا عملی قدم اٹھایا تھا۔

​فوجی مہارت: انہوں نے اپنی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ریاست کے سابق فوجی اہلکاروں کو ایک منظم فورس میں تبدیل کیا۔

​قیوم بریگیڈ کا قیام: یہی فورس بعد میں پہلی آزاد کشمیر بٹالین بنی، جو آگے چل کر 6 رجمنٹوں پر مشتمل معروف ’قیوم بریگیڈ‘ کی شکل اختیار کر گئی۔

​مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا

​بطور صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر، سردار عبدالقیوم خان نے کشمیریوں کی قومی شناخت کو برقرار رکھا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سفارتی فورمز پر پوری قوت سے اجاگر کیا۔

​ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ "کشمیر بنے گا پاکستان" کا نعرہ تخلیق کرنا تھا۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ وہ بنیادی نظریہ ہے جس نے تحریکِ آزادی کشمیر کو واضح سمت، مقصد اور منزل عطا کی۔

​نئی نسل کے لیے نظریاتی پیغام

​مجاہدِ اول کے پوتے، سردار عثمان عتیق خان نے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے نئی نسل پر زور دیا۔

​سردار عثمان عتیق خان کا بیان: ”یہ ہمارا اولین قومی فریضہ ہے کہ ہم مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان کے افکار اور ان کی جدوجہد کے پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو 'کشمیر بنے گا پاکستان' کے اصل نظریے اور اس کے پیچھے چھپی طویل جدوجہد سے روشناس کرانا ہوگا