کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پرتشدد بیانیے سے ارکان کی مسلسل لاتعلقی
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا پرتشدد اور ریاست مخالف ایجنڈا خود تنظیم کے اہم عہدیداران اور کارکنوں کے لیے ناقابل قبول بن چکا ہے۔ عوامی حقوق کے نام پر شروع کی گئی مہم کے اصل محرکات بے نقاب ہونے کے بعد کور کمیٹی کے اراکین، قانونی مشیروں اور اہم سہولت کاروں کی جانب سے تنظیم سے مکمل لاتعلقی اور بائیکاٹ کا سلسلہ مسلسل تیز ہو رہا ہے۔
کور ممبران اور اہم عہدیداران کے استعفوں اور لاتعلقی کا ریکارڈ
گزشتہ دو ماہ کے دوران درجن بھر کلیدی رہنماؤں اور اراکین نے تحریری و ویڈیو پیغامات کے ذریعے کالعدم کمیٹی کے متنازع بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کی ہے:
احسان شبیر اور راجہ سلطان: 9 جون کو تنظیم کے انتشاری بیانیے سے لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کیا۔
ایڈووکیٹ راجا امجد علی خان: 21 جون 2026 کو قانونی و تنظیمی سطح پر کمیٹی سے راہیں جدا کیں۔
انجم زمان اور کور ممبر افتخار محمود: بالترتیب 22 اور 23 جون کو علیحدگی اختیار کی۔
مہتاب احمد، رضوان اور محمد یونس: 26 جون کو بطور سہولت کار کمیٹی کے منفی ایجنڈے سے کنارہ کش ہوئے۔
کور ممبر فیصل گیلانی، محمد عابد اور شہزاد لون: 28 اور 29 جون کو بائیکاٹ کا اعلان کر کے ریاست مخالف پروپیگنڈا مسترد کیا۔
محمد عثمان اور کور ممبر سعید امجد: 4 جولائی اور یکم اگست کو قیادت سے شدید اختلافات کے بعد الگ ہو گئے۔
مسلح رکن محمد عابد کا اعترافی بیان اور ہتھیار ڈالنے کی اپیل
ہجیرہ کے علاقے گوبڑ سے تعلق رکھنے والے تنظیم کے رکن محمد عابد نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کرنے کے بعد اعتراف کیا:
"میں 27 تاریخ کے لانگ مارچ میں خودکار ہتھیار کے ساتھ شریک ہوا تھا، لیکن 28 تاریخ کو حقائق واضح ہونے پر میں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ میں ایکشن کمیٹی کے دیگر ساتھیوں سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد ترک کر کے فوراً ہتھیار ڈال دیں۔"
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق، کلیدی رہنماؤں کا انخلا اور مسلح کارکنوں کی خودسپردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے