یومِ الحاقِ کشمیر ریلی: کل جماعتی حریت کانفرنس کا اعلیٰ سطح وفد گلگت روانہ
اسلام آباد — کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں ایک اہم اور اعلیٰ سطحی وفد آج گلگت بلتستان کے تنظیمی دورے پر روانہ ہو گیا۔ اس وفد کا بنیادی مقصد 19 جولائی کو گلگت میں منعقد ہونے والی عظیم الشان "یومِ الحاقِ کشمیر ریلی" کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا ہے۔
وفد میں حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد، سید اعجاز رحمانی، راجہ خادم حسین، زاہد صفی، شیخ عبدالماجد اور زاہد اشرف شامل ہیں۔
حریت وفد کے دورے کے اہم مقاصد اور ملاقاتیں
یہ وفد اپنے قیام کے دوران گلگت بلتستان کی اہم سیاسی، مذہبی، اور سماجی قیادت سے ملاقاتیں کرے گا۔ حریت قیادت کا ہدف خطے کے تمام مکاتبِ فکر کو 19 جولائی کی مرکزی ریلی میں شرکت کی باضابطہ دعوت دینا ہے۔
سیاسی و عوامی روابط کی تفصیلات:
سیاسی و مذہبی جماعتوں سے روابط: ریلی کی مشترکہ حکمتِ عملی کی تیاری۔
سول سوسائٹی اور وکلاء: مسئلہ کشمیر کے قانونی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں پر تبادلہ خیال۔
طلبہ اور میڈیا: نوجوانوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے تحریکِ آزادیِ کشمیر کے بیانیے کو فروغ دینا۔
ان ملاقاتوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
19 جولائی کی تاریخی اہمیت: یومِ الحاقِ کشمیر کیا ہے؟
یومِ الحاقِ کشمیر ہر سال 19 جولائی کو 1947ء کے اس تاریخی فیصلے کی یاد میں منایا جاتا ہے جب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سرینگر میں متفقہ طور پر ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔
اہم نقطہ: کشمیری عوام کے لیے یہ دن ان کی تاریخی، سیاسی اور نظریاتی وابستگی کی علامت ہے، جہاں وہ شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے حقِ خودارادیت کے عزم کو دہراتے ہیں۔
حریت قیادت نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ: "19 جولائی کی ریلی کشمیری عوام کی پاکستان سے تاریخی وابستگی کی تجدیدِ عہد کا ایک اہم موقع ہے، جس کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ وادی کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی جائے گی۔"
حریت کانفرنس نے گلگت بلتستان کے غیور عوام، وکلاء، طلبہ، اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ 19 جولائی کی ریلی میں بھرپور شرکت کر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔