تحریک لبیک پاکستان انتخابی نشان کے لیے نااہل، "کرین" واپس لینے کا حکم
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے تحریک لبیک پاکستان (TLP) کو انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کا معروف انتخابی نشان "کرین" واپس لینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کے لیے الضروری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
فیصلہ کی بنیادی وجہ: انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکامی
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تحریری فیصلے کے مطابق تحریک لبیک پاکستان مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی: کمیشن نے قرار دیا کہ ٹی ایل پی الیکشن ایکٹ 2017 کے تقاضے اور بالخصوص دفعہ 209 کی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پارٹی آئین سے عدم مطابقت: ٹی ایل پی کی جانب سے جمع کرایا گیا انتخابی ریکارڈ پارٹی کے اپنے آئین سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
متضاد دعوے: الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف تاریخوں پر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے پارٹی کے دعوے قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں پائے گئے۔
انتخابی نشان کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن بنیادی شرط
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آئین و قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کے لیے باقاعدہ، منصفانہ اور شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد انتخابی نشان کے حصول کے لیے بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
فیصلے کے اہم نکات:
سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ: الیکشن کمیشن نے اپنے حکم نامے میں سپریم کورٹ کے سابقہ نژائر اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انٹرا پارٹی انتخابات کی قانونی اور آئینی اہمیت کو اجاگر کیا۔
قانون کی یکساں بالادستی: کمیشن نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے انتخابی نشان کا حق برقرار نہیں رکھ سکتی۔
سابقی فیصلہ برقرار: الیکشن کمیشن نے ٹی ایل پی کے نام نہاد انٹرا پارٹی انتخابات کو مسترد کرنے کا اپنا پچھلا فیصلہ بحال اور برقرار رکھا ہے