ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کا متن جاری؛ تہران نے میزائل پروگرام اور یورینیم پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں

ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کا متن جاری؛ تہران نے میزائل پروگرام اور یورینیم پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں

Jun 18, 2026|ویب ڈیسک

تہران / واشنگٹن: ایرانی وزارتِ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے متن پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد 60 روزہ نفاذ کی مدت کا آغاز آج سے ہی ہو رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کے فوری بعد تہران میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ دستاویز دونوں فریقین کی رضامندی سے طے پائی ہے اور اس کا فارسی متن انگریزی دستاویز کے عین مطابق ہے، تاہم ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گا۔

دن کی ڈیڈ لائن اور امریکہ پر عائد پابندیاں

ایرانی ترجمان نے معاہدے کے تحت اگلے 60 دنوں کے لیے طے پانے والے سخت تزویراتی (Strategic) شرائط کا اعلان کیا:

  • فوجی نقل و حرکت پر پابندی: اس 60 روز کے دوران دوسرا فریق (امریکہ) خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرے گا۔
  • نئی پابندیوں پر روک: امریکہ اس مدت کے دوران ایران پر کوئی نئی اقتصادی پابندی عائد نہیں کر سکتا۔
  • تیل کی فوری فروخت: ایران پر عائد تیل کی پابندیاں فوری ختم ہونی چاہئیں اور ایران آج سے ہی عالمی مارکیٹ میں اپنا تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
  • اسرائیلی جارحیت کا معاملہ: اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی قسم کا حملہ اس بین الاقوامی معاہدے کی صریح خلاف ورزی تصور ہوگا۔

دفاعی صلاحیتیں اور جوہری مواد: "میزائل مذاکرات کے لیے نہیں ہیں"

ترجمان اسماعیل بقائی نے بین الاقوامی برادری پر واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران کے دفاعی اور جوہری پروگرام پر لاگو نہیں ہوتا۔

ایران کا دوٹوک موقف:

"ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں،" اسماعیل بقائی نے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، تاہم ایران اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملکی سطح پر کم افزودہ کرنے کے تکنیکی عمل سے گزار سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز پر فیس کا نفاذ اور منجمد فنڈز کی بحالی

. آبنائے ہرمز میں سروسز فیس

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو سیکیورٹی و اسٹریٹجک خدمات کے بدلے فیس ادا کرنا ہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ اس کا انتظام ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

منجمد اثاثوں تک رسائی

معاہدے کے تحت امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی کی تمام قانونی اور مالی رکاوٹیں ختم کرے۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی فوری شروع کیے جا رہے ہیں۔