آزاد کشمیر میں تشدد اور انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی سیکیورٹی ذرائع
*اسلام آباد:* سیکیورٹی ذرائع نے ایک اہم بریفنگ میں کہا ہے کہ *کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ہے* اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت پاکستان کے اصولی مؤقف کا حصہ رہے گی۔
ذرائع کے مطابق 1948 کی جنگ پاکستانی افواج، کشمیری عوام اور قبائلی مجاہدین نے مل کر لڑی تھی جبکہ مسئلہ کشمیر پر اب تک متعدد جنگیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ *"کشمیر بنے گا پاکستان"* اور *"ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے"* جیسے نعرے پاکستانی اور کشمیری عوام کے جذبات اور موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں حالات پر تشویش
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی دعوے، سبسڈیز یا دیگر اقدامات کشمیری عوام کے جذبات اور حقِ خود ارادیت کو متاثر نہیں کر سکتے۔ آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور قانونی اقدامات بھی کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کر سکتے۔
ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ فوجی موجودگی والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم کشمیری عوام اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے خواہاں ہیں۔
آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کا الزام
بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی پالیسیوں کی ناکامی کو چھپانے کے لیے آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض احتجاجی تحریکوں کے پس منظر میں موجود عناصر اور ان کے مقاصد اب واضح ہو چکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مذاکرات اولین ترجیح قرار
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کو ترجیح دی ہے۔ مختلف معاملات پر متعلقہ حلقوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت کا عمل جاری رہا ہے۔
قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ کسی بھی گروہ یا تنظیم کو تشدد، جلاؤ گھیراؤ یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد یا گروہ قانون شکنی یا تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ریاست عوام کے جمہوری حقوق کے احترام کے ساتھ ساتھ امن و امان اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔