بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کو قومی اسمبلی اور این ایف سی فورم میں نمائندگی دینے کا مطالبہ

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کو قومی اسمبلی اور این ایف سی فورم میں نمائندگی دینے کا مطالبہ

Jul 15, 2026|ویب ڈیسک

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مظفرآباد میں انتخابی مہم کا جائزہ لیا؛ احتجاجی مظاہرین کو ہڑتال ختم کرکے مذاکرات کی دعوت دے دی۔

​مظفرآباد – پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں مبصر یا عبوری نمائندگی دینے اور این ایف سی (NFC) فورم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے کے مالیاتی اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

​مظفرآباد میں ریاستی حکام، پارٹی عہدیداران اور ٹکٹ ہولڈرز کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے کشمیر میں پی پی پی کی انتخابی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، صدر ریاست چوہدری لطیف اکبر، صدر پی پی پی چوہدری یاسین، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور سینئر وزیر میاں وحید سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔

وفاقی فورمز پر نمائندگی اور آئینی اصلاحات کی ضرورت

​اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے مالیاتی ڈھانچے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اپنے نام کی حد تک آزاد ہے لیکن عملی طور پر وفاقی گرانٹس پر چلتا ہے۔

​"میں چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر کی، مبصر کے طور پر ہی سہی، ایک عبوری نمائندگی ہونی چاہیے۔ جب قومی اسمبلی اور این ایف سی فورم پر کشمیر کا نمائندہ موجود ہوگا، تو کوئی دوسرا ہماری تاریخ اور حقوق کا فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ راولاکوٹ والا خود اپنی تاریخ بیان کرے گا۔"

— بلاول بھٹو زرداری

​انہوں نے اعلان کیا کہ کشمیر کے انتخابات کے فوری بعد ایک وسیع البنیاد "آئینی فورم" کا انعقاد کیا جائے گا جہاں تمام کشمیری اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر مستقبل کے فیصلے کریں گے۔

احتجاج ختم کرنے کی اپیل اور انتہاپسندانہ رویوں کی مذمت

​حالیہ احتجاجی لہر پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے واشگاف الفاظ میں مظاہرین کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی۔

​احتجاج تاحیات نہیں ہوتے: بلاول بھٹو نے کہا کہ "آپ نے 30 دن احتجاج کا ریکارڈ بنا لیا، لیکن احتجاج تاحیات نہیں ہوتے۔ اب اسے ختم کریں اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔"

​نظام کے اندر رہ کر جدوجہد: انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے حقوق حاصل نہیں ہوتے، حقوق ہمیشہ نظام کے اندر رہ کر ہی حاصل کیے جاتے ہیں۔

​انتخابی بائیکاٹ کی مذمت: انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

نوجوان نسل اور کشمیر کا سیاسی مستقبل

​بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ اگر آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کو پورا نہ کیا گیا تو انتشاری قوتیں اس کا فائدہ اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی نئی نسل اسٹیٹس کو (status quo) سے مطمئن نہیں ہے اور انہیں پرانی تنخواہ اور پرانے طریقوں پر نہیں چلایا جا سکتا۔

​اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ انتخابات کے مکمل ہونے تک آزاد کشمیر ہی میں قیام کریں گے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ آزاد کشمیر میں "ایم کیو ایم اور الطاف حسین والی سیاست" کا نفاذ ہرگز نہیں دیکھنا چاہتے