آزاد جموں و کشمیر : کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال مسترد
مظفرآباد – آزاد جموں و کشمیر کے غیور شہریوں اور تاجر برادری نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 5 جولائی کو دی جانے والی ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ریاست کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں روزمرہ معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال رہے اور شہریوں نے کسی بھی قسم کے احتجاج یا پہیہ جام کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔
مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی سمیت تمام اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے رہے۔
انتشار اور بدامنی کے خلاف کشمیری عوام کا واضح فیصلہ
ریاست بھر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں ریاست کو پہلے ہی شدید معاشی اور سماجی نقصان پہنچا چکی ہیں، اور یہ تازہ کال محض انتشار اور بدامنی پھیلانے کی ایک اور مذموم کوشش تھی۔
زمینی صورتحال کے اہم خدوخال:
کاروبار کی روانی: ریاست بھر کے تمام بڑے کاروباری مراکز، صرافہ بازار اور غلہ منڈیاں کھلی رہیں اور تاجروں نے معمول کے مطابق لین دین جاری رکھا۔
ٹرانسپورٹ کی بحالی: بین الاضلاعی اور شہروں کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر رواں دواں رہی، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔
افواہوں کی ناکامی: عوام نے گمراہ کن پروپیگنڈے اور جھوٹی افواہوں پر دھیان نہ دے کر ذمہ دارانہ شریت کا ثبوت دیا۔
ترقی اور استحکام کے سفر کو روکنے کی کوششیں ناکام
آزاد کشمیر کے غیور شہریوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب کسی بھی صورت ایسے عناصر کا آلہ کار نہیں بنیں گے جو ذاتی ایجنڈے کے لیے کشمیر کے امن اور روزگار کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔
"کالعدم کمیٹی کے پرتشدد ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہمارا کاروبار اور بچوں کی تعلیم پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی عوام اب مزید کسی انتشار یا قانون شکنی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔"
— مقامی شہریوں اور تاجروں کا مشترکہ مؤقف
عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ منفی سیاست اور گمراہ کن بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے امن، معاشی استحکام اور ریاست کی تعمیر و ترقی کے سفر کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔