راولاکوٹ دھرنے سے لوٹنے والے نوجوان کے سنسنی خیز انکشافات

راولاکوٹ دھرنے سے لوٹنے والے نوجوان کے سنسنی خیز انکشافات

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

شہریوں کو دھرنے میں زبردستی یرغمال بنانے اور گاڑیاں چھیننے پر حکومت سے فوری مدد کی اپیل

راولاکوٹ، آزاد کشمیر — راولاکوٹ دھرنے کے اندرونی حالات کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی صورتحال سامنے آئی ہے۔ دھرنے سے واپس لوٹنے والے ایک مقامی نوجوان محمد عثمان نے وہاں موجود مشکوک سرگرمیوں اور مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق انتہائی ہوشربا انکشافات کر کے سیکیورٹی اداروں اور حکومت کو متوجہ کر دیا ہے۔

نوجوان محمد عثمان کے مطابق، راولاکوٹ دھرنے کے مقام پر اس وقت طویل بالوں والے متعدد مشکوک اور نامعلوم مسلح افراد موجود ہیں، جنہوں نے دھرنے کے اہم منتظم مہران کو اپنے سخت حصار میں لے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کا ماحول اب عام شہریوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔

دھرنے کے اندرونی حالات: یرغمال بنانے اور گاڑیوں کی چابیاں چھیننے کے واقعات

واپس آنے والے عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ جو معصوم شہری دھرنے کا حصہ بنے تھے، وہ اب وہاں بری طرح پھنس چکے ہیں اور انہیں بیرونی عناصر کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا ہے:

زبردستی روک تھام: دھرنے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کی کوشش کرنے والے افراد کو ڈرا دھمکا کر زبردستی روکا جا رہا ہے۔

چابیاں چھیننا: دھرنا گاہ سے نکلنے والی گاڑیوں کے مالکان سے اسلحہ کے زور پر گاڑیوں کی چابیاں چھینی جا رہی ہیں۔

سرعام منشیات فروشی: احتجاجی کیمپ کے اندر سرعام منشیات کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت دھڑلے سے جاری ہے۔

خوفناک خدشہ: محمد عثمان نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دھرنے میں موجود شرپسند عناصر خود وہاں موجود افراد کو نقصان پہنچا کر اس کا ملبہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر ڈالنے کی خطرناک منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کے لیے انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ

نوجوان نے آزاد کشمیر حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ راولاکوٹ دھرنے میں زبردستی روکے گئے معصوم شہریوں کو بحفاظت نکالنے اور ان کی گھروں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر قانونی اقدامات کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احتجاجی کیمپ کے اندر سے آنے والی ان سنگین شکایات کے بعد دھرنے کی قیادت کو عوامی سطح پر شدید تنقید اور اخلاقی پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔