ایل اے 27 میں ن لیگ کو جتوانے کے لیے دھاندلی اور پولنگ التوا کا راستہ بنایا گیا: سردار جاوید ایوب

ایل اے 27 میں ن لیگ کو جتوانے کے لیے دھاندلی اور پولنگ التوا کا راستہ بنایا گیا: سردار جاوید ایوب

Aug 6, 2026|ویب ڈیسک

​مظفرآباد (ویب ڈیسک): پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب نے آزاد کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے 27 مظفرآباد میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ (ن) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الیکشن کے التوا اور مبینہ دھاندلی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

​ ن لیگ کو سیاسی سہارا دینے کے لیے پولنگ ملتوی کی گئی

​مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار جاوید ایوب نے الزام عائد کیا کہ ایل اے 27 میں پولنگ ملتوی کرنے کا مقصد مسلم لیگ (ن) کو سیاسی راستہ فراہم کرنا تھا، کیونکہ ن لیگ کی قیادت کو علم تھا کہ ان کا امیدوار حلقے میں تیسرے نمبر پر ہے۔

​انہوں نے انتخابی صورتحال کو ناہمواری کا شکار قرار دیتے ہوئے اہم نکات اٹھائے:

​عوامی مقبولیت کے اعداد و شمار: حلقے میں اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کے درمیان تھا، جبکہ مسلم لیگ (ن) 10 ہزار ووٹوں کے ساتھ واضح طور پر تیسرے نمبر پر تھی۔

​انتخابی جغرافیہ اور دہرا معیار: ایک ہی مرکزی سڑک پر واقع دو حلقوں میں سے ایک پر الیکشن کرایا گیا جبکہ دوسرے میں ملتوی کر دیا گیا۔

​تاخیری حربے: پیپلز پارٹی نے دن 10 بجے تک الیکشن کمیشن سے پولنگ شروع کرانے کی اپیل کی، جسے نظر انداز کیا گیا۔  

​پولنگ عملے کی مشکوک سرگرمیاں اور انتخابی بے ضابطگیاں

​سردار جاوید ایوب نے پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن کے عملے کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ عملہ غیر جانبدار رہنے کے بجائے ایک مخصوص امیدوار کا سہولت کار بنا رہا۔

​دھاندلی کے اہم الزامات اور ثبوت

​عملے کی امیدوار کے گھر موجودگی: الیکشن کے دن پولنگ عملہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جانے کے بجائے ایک امیدوار کے گھر سے برآمد ہوا۔ تحریری درخواست کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

​جعلی فارم 24 کا اجراء: متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر پی پی پی کے پولنگ ایجنٹس کو سرکاری فارم 24 فراہم نہیں کیا گیا، بلکہ ہاتھ سے تیار کردہ غیر قانونی فارمز دیے گئے۔

​بیلٹ پیپرز اور اسٹیمپنگ میں ہیرا پھیری: سرلی سچہ منہا پولنگ اسٹیشن پر ایجنٹوں کو باہر نکال کر فرضی ٹھپے لگائے گئے، جبکہ سریاں پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپرز کے 59 سیریل نمبر غائب پائے گئے۔

​سادہ کاغذوں پر دستخط: ضروری جگہوں پر الیکشن کمیشن کی مہر لگانے کی بجائے سادہ کاغذات پر دستخط کرائے گئے۔

​سیکیورٹی کا فقدان: انتخابی عمل پاک فوج کی جگہ پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی زیرِ نگرانی کروایا گیا۔

​"ہم اس دھاندلی زدہ الیکشن کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ اگر الیکشن کمیشن میں ہماری داد رسی نہ ہوئی تو پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگی، اور جب جیالے سڑکوں پر آئیں گے تو حالات کو سنبھالنا انتظامیہ کے بس میں نہیں رہے گا۔" — سردار جاوید ایوب