راولاکوٹ میں مسلح جتھوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ: رینجرز اہلکار شہید، 15 پولیس اہلکار زخمی
راولاکوٹ (آزاد کشمیر) — ایس ایس پی راولاکوٹ خاور علی شوکت نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں نام نہاد پرامن تحریک اب ایک انتہائی خطرناک مسلح جتھے کا روپ دھار چکی ہے، جس نے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ننگا ناچ شروع کر رکھا ہے۔
ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، مگر مسلح جتھے مسلسل پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بھاری ہتھیاروں سے عمارتوں پر مورچہ بندی
ایس ایس پی راولاکوٹ نے بتایا کہ شرپسند عناصر نے مختلف عمارتوں کی چھتوں اور بلندیوں پر مورچہ زن ہو کر پولیس اور رینجرز کی نفری پر جدید اور بھاری ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کی۔
ایس ایس پی خاور علی شوکت کا کہنا تھا: "یہ کوئی پرامن تحریک نہیں بلکہ مسلح جتھہ بن چکا ہے۔ مسلح عناصر مختلف عمارتوں پر مورچہ زن ہو کر فورسز پر بھاری اور جدید ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔ ان بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں رینجرز کا ایک جوان جامِ شہادت نوش کر گیا جبکہ 15 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔"
گرفتاریاں، غیر ملکی تانے بانے اور پراپیگنڈا
پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد مسلح شرپسندوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے سنگین نوعیت کا بھاری اسلہ اور گولا بارود برآمد کر لیا ہے۔
اہم ترین نکات:
جانی نقصان: مسلح شرپسندوں کی فائرنگ سے رینجرز اہلکار شہید اور 15 پولیس افسران و جوان زخمی۔
سازش کا پردہ چاک: کالعدم تنظیم کا بنیادی مقصد کشمیر کی تاریخی پرامن فضا کو خراب کرنا اور بدامنی پھیلانا ہے۔
بیرونی ہاتھ: ایس ایس پی خاور علی شوکت نے انکشاف کیا کہ ان شرپسندوں اور فسادیوں کے تانے بانے ملک دشمن اور بیرونی جگہوں سے ملتے ہیں۔
سوشل میڈیا پراپیگنڈا: ملک دشمن عناصر من گھڑت اور منفی پراپیگنڈا پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔
سخت ترین سزا: ترجمان آزاد کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست کی بالادستی پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی