راولاکوٹ دھرنا بری طرح ناکام؛ دریک عیدگاہ میں خالی کرسیاں کالعدم ایکشن کمیٹی کے انتشاری بیانیے سے عوامی لاتعلقی کا ثبوت
راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر کے باشعور عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے مبینہ انتشاری بیانیے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ راولاکوٹ کے دریک عیدگاہ میدان میں کمیٹی کی جانب سے دیے جانے والے دھرنے میں عوام کی عدم شرکت اور خالی پنڈال نے منتظمین کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
راولاکوٹ سے موصول ہونے والی تصویری اور عینی شاہدین کی رپورٹس کے مطابق، دھرنے کے پنڈال میں محض چند درجن افراد ہی موجود تھے، جبکہ پنڈال کی ویرانی اور خالی پڑی ہزاروں کرسیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ مقامی آبادی نے خود کو اس احتجاجی مہم سے مکمل طور پر دور رکھا ہے۔
نام نہاد دھرنے کی سیکیورٹی اور عوامی بائیکاٹ کی تفصیلات
کالعدم کمیٹی کی جانب سے کئی روز سے جاری پروپیگنڈے کے باوجود، راولاکوٹ کے شہریوں نے امن و امان اور معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے دھرنے کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ پنڈال کے اندرونی مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں صرف چند روایتی متحرک کارکن ہی موجود تھے، جبکہ عام کشمیری شہریوں نے اس اجتماع کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔
سیاسی مبصرین اور ماہرین کا تزویراتی تجزیہ
سیاسی امور کے ماہرین اور علاقائی مبصرین کے مطابق، دریک عیدگاہ کا ویران منظر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اس گروہ کے پاس نہ تو کوئی ٹھوس عوامی حمایت باقی بچی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا بیانیہ جو عوام کے لیے قابلِ قبول ہو۔
شادی بیاہ سے بھی کم رش: ماہرینِ عمرانیات کا کہنا ہے کہ عوامی مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی اس کمیٹی کے پنڈال سے زیادہ رش تو آزاد کشمیر کے دیہاتوں کی شادیوں اور عام سماجی اجتماعات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
ریاست مخالف عزائم کی ناکامی: مبصرین کے مطابق، شرپسند عناصر نے عوام کو گمراہ کر کے ریاست اور اداروں کے خلاف کھڑا کرنے کی منظم کوشش کی تھی، تاہم مقامی قیادت اور شہریوں کی سنجیدگی نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔
آخر میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے غیور اور محبِ وطن شہریوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پاکستان اور کشمیر کے مابین قائم لازوال اور تاریخی رشتے کو کمزور کرنے والی کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔