راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے ہاتھوں سابق فوجی کے بیٹے کا اغوا
راولاکوٹ (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قابض شرپسند عناصر کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی (پانیوالہ گروپ) کے کارندوں پر پاک فوج کے ریٹائرڈ اہلکار کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنانے، لوٹ مار کرنے اور اغوا کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی سطح پر شدید خوف و ہراس اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
اغوا کا واقعہ اور متاثرہ خاندان کی پریس کانفرنس
راولاکوٹ کے رہائشی اور پاکستان آرمی کے سابق اہلکار نسیم کیانی نے اپنے دیگر اہلخانہ کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپنے مغوی بیٹے کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
• تشدد اور اغوا: نسیم کیانی کے مطابق، کالعدم کمیٹی پانیوالہ کے مسلح افراد نے ان کے بیٹے دلاور کیانی کو سرِعام وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، قیمتی سامان لوٹا اور پھر اسے زبردستی اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
• خواتین اور بچوں کو حراساں کرنے کا انکشاف: متاثرہ والد نے سنگین انکشاف کیا کہ یہ انتشاری ٹولہ اب مقامی آبادی کو بلیک میل کر رہا ہے اور گھروں سے بچوں اور خواتین کو زبردستی اٹھا کر اپنی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔
• نجی ڈیٹا وائرل کرنے کی دھمکی: مغوی دلاور کیانی کے بھائی نے روتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ دلاور کے موبائل فون سے گھر کی نجی تصاویر اور ویڈیوز نکال کر انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے تاکہ خاندان کو مزید ذہنی اذیت دی جا سکے۔
"ہمارے پورے خاندان کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ہمارا واحد قصور صرف یہ ہے کہ ہم محبِ وطن پاکستانی ہیں اور ان کے شرپسند ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔ اگر میرے بیٹے یا خاندان کے کسی بھی فرد کو کوئی نقصان پہنچا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری کالعدم فتنہ کمیٹی پانیوالہ پر عائد ہوگی۔" — نسیم کیانی (متاثرہ والد)
عوامی حقوق کی آڑ میں مجرمانہ کارروائیاں: مبصرین کا ردعمل
سیاسی و امن و امان کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرینِ نفسیات اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، عوامی حقوق اور ریلیف کے نام پر وجود میں آنے والی یہ کمیٹی اب خالصتاً ایک پرتشدد اور مافیا نما گروہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو یرغمال بنانا، اغوا برائے تاوان، اور حبِ وطنی کے جرم میں مقامی خاندانوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کالعدم تنظیم کا عوامی فلاح سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ خطے میں انتشار اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرنے کا ایک باقاعدہ ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے حکومتِ آزاد کشمیر اور اعلیٰ عسکری قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری ایکشن لیتے ہوئے اغوا کاروں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کریں۔