راولاکوٹ: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی ویڈیو منظرِ عام پر
راولاکوٹ (ویب ڈیسک) – آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سرعام فائرنگ کی ایک مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس نے کمیٹی کے پرامن ہونے کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حالیہ ویڈیو شواہد کے مطابق، عوامی حقوق کی آڑ میں کام کرنے والی اس کمیٹی کے مسلح جتھے مسلسل سیکیورٹی فورسز اور ریاستی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ویڈیو کے ہلاکت خیز حقائق اور عسکری کارروائیاں
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شرپسند عناصر خودکار ہتھیار (SMG) تانے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر سیدھی فائرنگ کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، انتشاری کمیٹی کے مبینہ انتہاء پسند اس سے قبل درج ذیل مقامات اور اہلکاروں کو نشانہ بنا چکے ہیں:
سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ پر حملہ اور توڑ پھوڑ۔
پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر منظم پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ۔
ڈیوٹی پر مامور اے ایس آئی (ASI) پر تشدد اور حملہ۔
ماہرینِ دفاع کا تجزیہ: 'بیرونی ایماء پر امن تباہ کرنے کی سازش'
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسلح کارروائیاں کسی عوامی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بیرونی ایماء پر مسلح جتھوں کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے دیرپا امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔
"عوامی حقوق کے نام پر سیکیورٹی اداروں پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس انتشاری کمیٹی کا اصل ایجنڈہ کچھ اور ہے۔" – ماہرینِ دفاع
امن و امان کا قیام اور مستقبل کا لائحہ عمل
تجزیہ کاروں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان انتشاری عناصر سے سختی سے نمٹا جائے تاکہ خطے میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔