راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا فورسز پر حملہ، رینجرز اہلکار شہید

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا فورسز پر حملہ، رینجرز اہلکار شہید

Jul 14, 2026|ویب ڈیسک

راولاکوٹ (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی جب کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔


14 جولائی کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کا بنیادی مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا، عوام کو اشتعال دلانا اور اپنے دم توڑتے ہوئے دھرنے میں دوبارہ جان ڈالنا تھا۔


پولیس اور رینجرز کی جوابی پیش قدمی پر جدید ہتھیاروں کا استعمال

مقامی ذرائع کے مطابق، بزدلانہ کارروائی کے فوری بعد جب پولیس نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے پیش قدمی کی، تو مسلح جتھوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو خودکار ہتھیاروں اور گولہ بارود سے نشانہ بنایا۔


حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔ کالعدم گروپ کے مسلح ارکان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نہ صرف سیدھی فائرنگ کی بلکہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف مقامی سطح پر تیار کردہ خودساختہ دھماکہ خیز مواد (Improvised Explosives) کا استعمال بھی کیا۔


اہم ترین حقائق اور نقصانات (Key Takeaways)

جانی نقصان: مسلح جتھوں کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر مامور رینجرز کا ایک جوان شہید جبکہ ایک شدید زخمی ہوا، جسے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔


حملے کا مقام: متیال میرہ بس ٹرمینل، راولاکوٹ کے قریب گنجان آباد شہری علاقہ۔


ہتھیاروں کا استعمال: سیکیورٹی فورسز پر حملے میں خودکار اسلحیے اور بارودی مواد کا کھلم کھلا استعمال کیا گیا۔


ماہرین کی رائے: ریاستی رٹ کے خلاف منظم ایجنڈا اور سیکیورٹی آپریشن ناگزیر

دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اس بات کی واضح تصدیق کرتے ہیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک منظم اور غیر ملکی ایجنڈے کے تحت ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے پر کاربند ہے۔ اس بھیانک واقعے نے نام نہاد پرامن جدوجہد کا دعویٰ کرنے والی کمیٹی کا اصل اور پرتشدد چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔


"شہریوں پر فائرنگ اور فورسز پر حملوں میں جدید ترین ہتھیاروں اور بارود کا استعمال خالصتاً دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جو عام عوام کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔" — سیکیورٹی ماہرین


ماہرین کے مطابق، آزاد جموں و کشمیر میں مستقل امن کی بحالی، معصوم شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے اب کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ان مسلح جتھوں کے خلاف ایک فیصلہ کن اور جامع سیکیورٹی آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔