وزیر اعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان کے ممبران اسمبلی سے ملاقات
وفاقی حکومت کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی اور دانش سکولوں کے منصوبے تیز کرنے کی ہدایت
اسلام آباد — وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران نے وزیر اعظم ہاؤس میں اہم ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں خطے کے عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی معیشت کی مضبوطی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی محبت، وفاداری اور قومی یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ذریعے عوام کی توقعات، مسائل اور ترجیحات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے، اور خطے کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔
ملاقات کے اہم فیصلے اور تزویراتی اقدامات
وزیر اعظم شہباز شریف نے ارکان اسمبلی کی قابلِ عمل تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام: یہ کمیٹی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت قائم ہوگی، جو ارکان کی تجاویز پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ شامل ہیں۔
دانش سکولوں کا آغاز: گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں، جہاں اگلے سال سے باقاعدہ کلاسز کا آغاز کر دیا جائے گا۔
توانائی بحران کا حل: علاقے میں بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے شمسی توانائی سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
مقامی معیشت کی مضبوطی: وفاق گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا، جبکہ نوجوانوں کو جدید فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
"عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچے گا۔" — وزیر اعظم شہباز شریف
اس اہم مشاورتی بیٹھک میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ نے بھی شرکت کی۔