کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان کا سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعتراف

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان کا سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعتراف

Jul 18, 2026|ویب ڈیسک

مظفر آباد — کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے بلوچ (بیٹھک) میں ایک اشتعال انگیز اور گمراہ کن گفتگو سامنے آئی ہے۔ مروجہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، مذکورہ ممنوعہ تنظیم نے ہمیشہ شرپسندی، جھوٹے بیانیے اور مسلح جتھوں کے ذریعے پرتشدد سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے، جس کے تدارک کے لیے اب ریاست کی سخت کارروائی متوقع ہے۔

سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعتراف اور ریاستی رٹ کو چیلنج

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان نے اپنے حالیہ خطاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کا کھل کر اعتراف کیا ہے:

حملوں کا اعتراف: سرغنہ امان نے آزاد کشمیر کے علاقے بلوچ میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مسلح حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دہشتگردی کی دھمکی: ملزم نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ "جو کچھ ہم نے بلوچ بیٹھک میں کیا، وہ ہم یہاں بھی کرسکتے ہیں اور کریں گے"۔

یکطرفہ مطالبات: انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قانونی ضابطے کو تسلیم نہیں کریں گے اور ان کے مطالبات صرف ان کی مرضی کے مطابق ہی حل ہوں گے۔

ریاست مخالف بیانیے کی ترویج اور بیرونی روابط کا شبہ

مسلح جتھے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم کوشش

دفاعی ماہرین نے اس اشتعال انگیز گفتگو پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔

اہم ترین نکتہ: ماہرینِ دفاع کے مطابق، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا سرغنہ امان اور اس کے دیگر ساتھی ایک منظم منصوبے کے تحت ریاست مخالف بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح جتھوں کے ذریعے دہشت گردی کی کھلی دھمکیاں اس مؤقف کو سچ ثابت کرتی ہیں کہ یہ کمیٹی غیر ملکی پراکسی کے طور پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قانون کی مؤثر عملداری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

مختلف مکاتبِ فکر اور قانونی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے شرپسند عناصر کے خلاف اب سخت ترین قانونی مہم کا آغاز کیا جائے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر، مسلح جتھوں کے ذریعے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث اور ملکی قوانین کا مذاق اڑانے والے عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے