گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نومنتخب ارکان کی حلف برداری
گلگت;گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ایک اہم ترین اجلاس میں 30 نومنتخب اراکین اسمبلی نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے نئے ارکان سے وفاداری کا حلف لیا اور اس اہم آئینی سنگِ میل کو عبور کرنے پر تمام معزز اراکین کو دلی مبارکباد پیش کی۔
حلف برداری کی تقریب مکمل ہونے کے بعد ایوان میں اگلے مرحلے یعنی اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس سے خطے میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی۔
ایوان میں سیاسی جماعتوں کی عددی پوزیشن
نئی بننے والی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی عددی صورتحال درج ذیل ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی واضح برتری کے ساتھ سامنے آئی ہے:
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی): 13 نشستیں، جس کے ساتھ وہ ایوان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن): 9 نشستیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی): 6 نشستیں لے کر اہم سیاسی پوزیشن پر ہے۔
مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم): 1 نشست۔
آزاد امیدوار: 1 نشست۔
بلامقابلہ اعلانات اور آئندہ کی پارلیمانی کارروائی
حکومتی سازی کے عمل میں اہم ترین عہدوں کے لیے امیدواروں کا فیصلہ بلامقابلہ ہو چکا ہے۔ اسپیکر کے باوقار عہدے کے لیے پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ اس عمل کے فوری بعد وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا، جہاں پیپلز پارٹی کے ہی امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوں گے۔
موجودہ اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 3 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے، جس کے بعد نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا باقاعدہ عمل مکمل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ عدالتی احکامات کے باعث گلگت بلتستان کے 3 حلقوں کا سرکاری نوٹیفکیشن تاحال رکا ہوا ہے۔