مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہےڈاکٹر سید نذیر گیلانی

مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہےڈاکٹر سید نذیر گیلانی

Jun 15, 2026|ویب ڈیسک


مظفر آباد (ویب ڈیسک) یومن رائٹس کونسل فار کشمیر کے چیئرمین ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس مطالبے کو پہلے ہی رد کر چکے ہیں، کیونکہ یہ اقدام کشمیریوں کے مابین تفریق پیدا کرنے اور انہیں تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ بات صرف 12 نشستوں کی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے 25 لاکھ کشمیریوں کے بنیادی حقِ رائے دہی کی ہے۔ ان نشستوں کے بغیر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا وجود ہی نامکمل ہے۔

ریاستی اور غیر ریاستی کا فرق آئین و قانون کے خلاف ہے

چیئرمین ہیومن رائٹس کونسل نے کشمیریوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا:

"کشمیری دنیا کے کسی بھی کونے میں مقیم ہو، وہ کشمیری ہی رہے گا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں کشمیری میرا حق چھین لے گا۔ ریاستی اور غیر ریاستی کشمیری کا فرق پیدا کرنا تارکینِ وطن اور مہاجرین کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے، اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے حقوق کو کوئی بھی منسوخ نہیں کرسکتا۔"

سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد احتجاج توہینِ عدالت ہے

ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے عدالتی فیصلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی واضح مشاورتی رائے کے بعد اب ایکشن کمیٹی کے پاس احتجاج کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں صراحت کر دی ہے کہ آئین میں جو بھی تبدیلی ہوگی، وہ صرف اور صرف آئینی و قانونی طریقے سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عدالتی فیصلوں کا احترام نہ کیا گیا تو معاشرے میں افراتفری پھیل جائے گی۔ سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد بھی احتجاجی روش برقرار رکھنے پر ایکشن کمیٹی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

نشستیں ختم ہونے سے کشمیر کا مقدمہ کمزور ہونے کا خدشہ: ماہرین

دوسری جانب سیاسی و آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں ختم کرنے کے دور رس اور منفی سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

25 لاکھ کشمیری بے آواز: ماہرین کے مطابق اس اقدام سے دنیا بھر میں مقیم 25 لاکھ کشمیری اپنے سیاسی حق سے محروم اور بے آواز ہو جائیں گے۔

حقِ خودارادیت کو نقصان: بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت (Right to Self-Determination) کے اصولی مؤقف کی سیاسی و سفارتی حیثیت شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے