کشمیر کاز اور آزاد کشمیر کی داخلی حقیقتیں


آزاد کشمیر میں جامع مکالمے کی ضرورت

ایک ایسے دور میں جب سیاسی بیانیے اکثر لوگوں کو جغرافیائی اور نظریاتی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان تعلقات غیر معمولی طور پر مضبوط اور پائیدار رہے ہیں۔ یہ رشتے محض جغرافیہ، مذہب یا سیاست پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عزت و وقار اور امن کی مشترکہ خواہش میں پیوست ہیں۔

1977 میں پاکستان اور آزاد کشمیر کا میرا پہلا دورہ میری یادداشت کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ اس سفر کے دوران مجھے اُس وقت کے ممتاز سیاسی، مذہبی اور فکری رہنماؤں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ان میں سردار عبدالقیوم خان (صدر، جموں کشمیر مسلم کانفرنس)، کے۔ ایچ۔ خورشید (صدر، جموں کشمیر لبریشن لیگ)، مولانا عبدالباری (صدر، جماعت اسلامی آزاد کشمیر)، عبد الخالق انصاری (صدر، محاذ رائے شماری)، عبدالصمد وانی (چیف ایڈیٹر، کشمیر)، میر عبدالعزیز (ایڈیٹر، انصاف)، جی۔ ایم۔ میر، جی۔ ایم۔ لون اور ڈاکٹر فاروق حیدر شامل تھے، جو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے فکری معمار کے طور پر نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کا وژن اور قیادت ایک اہم دور میں تنظیم کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اس کے علاوہ مجھے عام لوگوں سے بھی ملنے اور بات چیت کا موقع ملا، جن کی جنگ بندی لائن کے اُس پار رہنے والے کشمیری بھائیوں سے محبت اور ہمدردی نہایت خلوص پر مبنی تھی۔

مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز اُس دور کی سیاسی بحثیں نہیں بلکہ وہ سوال تھا جو بے شمار لوگوں نے مجھ سے بار بار پوچھا: "ہم جموں و کشمیر کے اپنے بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟" یہ سوال نہ سیاسی مصلحت کا اظہار تھا اور نہ ہی سفارتی حکمتِ عملی کا۔ بلکہ یہ اُن کشمیریوں کے لیے حقیقی فکر مندی کی علامت تھا جو غیر یقینی حالات اور مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔

یہ جذبہ آج بھی آزاد کشمیر کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ کئی دہائیوں سے وہاں کے عوام نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے غیر متزلزل وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی حمایت جماعتی وابستگیوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر رہی ہے۔ چاہے وکالت کے ذریعے ہو، یا اخلاقی حمایت کی صورت میں، انہوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اسی طرح کشمیری مزاحمتی اور سیاسی تحریک کے رہنماؤں نے بھی آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دیگر قائدین اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ آزاد کشمیر کے عوام ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں زندگی بسر کرتے ہوئے جہاں وہ نسبتاً آزادانہ طور پر منظم ہو سکتے تھے، متحرک کردار ادا کر سکتے تھے اور اپنی آواز بلند کر سکتے تھے، وہ عالمی سطح پر کشمیر کاز کے فطری سفیر بن گئے۔

حال ہی میں، خصوصاً 2024 کے بعد، آزاد کشمیر کے عوام مراعات نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، معاشی انصاف اور اپنے جمہوری حقوق کے احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی آواز کو سننا ضروری ہے۔ تاہم جمہوریت کے نام پر کی جانے والی کسی بھی اصلاح کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں وہ کشمیر کاز کی سیاسی اور آئینی بنیادوں کو کمزور نہ کر دے۔ اس لیے آزاد کشمیر کی قیادت کے سامنے دوہرا چیلنج موجود ہے: ایک طرف عوامی مسائل کا حل اور دوسری طرف اُن اصولوں کا تحفظ جو تاریخی طور پر تمام خطوں کے کشمیریوں کو جوڑے ہوئے ہیں۔ حقیقی قیادت دونوں مقاصد کو بیک وقت حاصل کرنے کا نام ہے۔

موجودہ بے چینی کی جڑیں 2024 کے معاشی بحران میں ملتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالوں کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی (AAC) کے کئی مطالبات کو جائز تسلیم کرتے ہوئے عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا۔ ان میں آٹے پر سبسڈی، مقامی پن بجلی کی لاگت کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی، اور حکمران طبقے کو حاصل بعض مراعات کے خاتمے کے اقدامات شامل تھے۔ ان وعدوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 23 ارب روپے کا مالیاتی پیکیج بھی منظور کیا گیا۔

اگرچہ ان اقدامات سے وقتی طور پر کشیدگی میں کمی آئی، لیکن تنازع ختم نہیں ہوا۔ بہت سے کارکنوں اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وعدہ شدہ اصلاحات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا یا غیر ضروری تاخیر کا شکار ہے۔ ان کی ناراضی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عوامی اعتماد صرف وعدوں سے نہیں بلکہ بروقت اور واضح اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔

تحریک کا حالیہ مرحلہ معاشی مطالبات سے آگے بڑھ چکا ہے۔ 2025 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر پیش کیا۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین، خصوصاً جموں اور وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا ہے۔

اس مطالبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں جمہوری نمائندگی کے اصول کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے ایسے افراد قانون سازی میں کردار ادا کرتے ہیں جو آزاد کشمیر میں مقیم نہیں۔ ان کے مطابق منتخب اداروں کو بنیادی طور پر انہی لوگوں کی نمائندگی کرنی چاہیے جو اس خطے میں رہتے ہیں اور حکومتی فیصلوں کے اثرات براہِ راست برداشت کرتے ہیں۔

یہ مؤقف غور طلب ہے۔ جمہوری نظام نمائندگی، جوابدہی اور عوامی رضامندی سے اپنی قانونی حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی ایسا انتظام جو ان اصولوں سے متصادم محسوس ہو، لازماً بحث و مباحثے کو جنم دے گا۔

تاہم اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مہاجرین کی مخصوص نشستیں محض سیاسی رعایت کے طور پر نہیں بنائی گئیں بلکہ ان کا مقصد جموں اور وادی کشمیر سے بے دخل ہونے والے کشمیریوں کے اس مستقل حق کو تسلیم کرنا تھا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل میں اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ یہ نشستیں اس آئینی مؤقف کو تقویت دیتی ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ ابھی عوامی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔

ایسے حالات میں دانشمندی کا تقاضا تھا کہ مکالمے کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ حالیہ واقعات میں بھی مشکل حالات کے باوجود مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ تعمیری بات چیت تنازع کے پھیلاؤ کو روک سکتی تھی اور مختلف فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دے سکتی تھی۔ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے بارہا ثابت کیا ہے کہ انتہائی پیچیدہ اور حساس حالات میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اسی طرزِ عمل نے پاکستانی سول اور عسکری قیادت کو عالمی سطح پر تحسین دلائی ہے۔

جب پاکستان ماضی میں ناممکن دکھائی دینے والے تنازعات میں بھی متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں یہی مؤثر طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ اگر مکالمہ گہرے اختلافات کو کم کر سکتا ہے تو مخصوص نشستوں کے خاتمے اور دیگر مطالبات کے حوالے سے پیدا ہونے والے تعطل کو دور کرنے کے لیے بھی یہی طریقہ اپنایا جا سکتا تھا۔ آزاد کشمیر میں اس حکمت عملی کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے بہت سے کشمیری نژاد امریکیوں نے حالیہ واقعات پر شدید دکھ اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کر کے اپنے جذبات اور خدشات بیان کیے۔ ان گفتگوؤں میں کئی افراد نے ایسے واقعات کا ذکر کیا جنہوں نے مقامی آبادی کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ ایک المناک واقعے میں ایک شخص کو مبینہ طور پر قریب سے گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جس سے علاقے میں غم و غصہ اور خوف کی فضا پیدا ہوئی۔

ان واقعات کے باعث کشمیری تارکینِ وطن، خصوصاً وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد، پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق مؤقف پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرتا ہے تو آزاد کشمیر میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر بھی یکساں حساسیت اور شفافیت کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ یہ احساس اس امر کی یاد دہانی ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات میں ہر جگہ یکساں اصول اپنانا ضروری ہے۔

یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بھارت آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام کے جذبات اور مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو بھارت عالمی دارالحکومتوں میں اس مسئلے کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے لیے مؤثر جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔ گویا "جو اصول ایک فریق کے لیے درست ہے، وہ دوسرے کے لیے بھی قابلِ اطلاق ہو سکتا ہے"۔

اگر آزاد کشمیر کے موجودہ مسائل حل نہ کیے گئے تو اس کے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر کشمیر کاز کو آگے بڑھانے والے افراد اور ادارے ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سہارا کھو سکتے ہیں۔

مختصراً، آزاد کشمیر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ صرف معاشی مسائل کے حل میں نہیں بلکہ ان آئینی بنیادوں اور تاریخی اصولوں کے تحفظ میں بھی ہے جنہوں نے طویل عرصے سے کشمیری جدوجہد کی سمت متعین کی ہے۔ پائیدار استحکام تصادم سے نہیں بلکہ جامع مکالمے، ذمہ دار حکمرانی، انصاف اور جمہوری جوابدہی کے مشترکہ عزم سے حاصل ہوگا۔