کوٹلی کے عمائدین بھی ایکشن کمیٹی سے لاتعلق
کوٹلی (ویب ڈیسک): آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی کی ممتاز سماجی و سیاسی شخصیات نے حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان اور قانون کی پاسداری کا عزم دہرایا ہے۔
کالعدم تنظیم کی پالیسیوں سے اختلاف اور قانون کی پاسداری کا عزم
کوٹلی کے نامور عمائدین محمد آزاد، حامد محمود اور ظفر اقبال نے اپنے مشترکہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ وہ قانون پسند اور محبِ وطن شہری ہیں اور ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی انتشار انگیز پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتے۔
تنظیم سے ماضی میں وابستگی اور موجودہ علیحدگی کے حوالے سے رہنماؤں کا مؤقف درج ذیل ہے:
محمد آزاد: "میں ماضی میں ایکشن کمیٹی کا حصہ ضرور رہا ہوں، لیکن حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد، قانون کی پاسداری کرتے ہوئے میں نے اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔"
حامد محمود (معروف سماجی شخصیت): "میرا ایکشن کمیٹی سے تعلق صرف پابندی لگنے سے قبل تک تھا۔ اب میرا اس تنظیم سے کوئی واسطہ یا وابستگی نہیں ہے۔"
ظفر اقبال: "عوامی ایکشن کمیٹی کو حکومت نے باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد اب میرا اس تحریک سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔"
عوامی تائید میں کمی اور مقامی حلقوں کا ردعمل
سیاسی تجزیہ کاروں اور مقامی مبصرین کے مطابق، کوٹلی کے ان اہم عمائدین کا یکے بعد دیگرے علیحدگی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ یہ تحریک اب مقامی سطح پر اپنی عوامی تائید کھو چکی ہے۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی اس مہم کو اب مبینہ طور پر ملک دشمن ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جسے کوٹلی کے غیور اور قانون پسند عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔