لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس؛ شرپسند ٹولے کی کوئی سیاسی یا قانونی حیثیت نہیں، کشمیری رہنما
لاہور — جموں و کشمیر مہاجرین کونسل نے آزاد کشمیر میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی اور انتشاری گروہ قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم اور ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں مہاجر کشمیری رہنماؤں سید عمر شریف بخاری، ایوب میر، آصف جرال اور غلام عباس میر سمیت دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات شہباز حنیف، شہزاد راجہ، زرقا جاوید اور مرزا ساجد نے شرکت کی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پریس کانفرنس کے اہم نکات اور رہنماؤں کا مؤقف
کونسل کے اراکین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پوری کشمیری قوم اس شرپسند گروہ کے خلاف متحد ہے:
سیاسی و قانونی حیثیت کا خاتمہ: جموں و کشمیر مہاجرین کونسل کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پاس نہ تو کوئی سیاسی حیثیت ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی قانونی جواز باقی رہ گیا ہے۔
مٹھی بھر گمراہ عناصر کا ٹولہ: مقررین نے کہا کہ یہ گروہ محض چند گمراہ افراد پر مشتمل ہے، جنہیں ان کے اپنے ہی کشمیری اور پاکستانی بھائیوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔
دشمن کے ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام: پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ اس کالعدم کمیٹی کے پیچھے موجود شرپسند عناصر ملک میں بدامنی اور افواہیں پھیلا کر دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
پاک کشمیر لازوال رشتہ: کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری اور پاکستانی دو الگ قومیں نہیں بلکہ ایک ہی قوم ہیں، جن کا رشتہ باہمی بھائی چارے، لازوال قربانیوں اور مشترکہ قومی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔
انتشاری بیانیے کی مکمل ناکامی
سیاسی مبصرین کے مطابق، جموں و کشمیر مہاجرین کونسل کی جانب سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اس طرح کھلے عام اور متفقہ طور پر مسترد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ انتشاری ٹولہ کشمیری عوام کا نمائندہ نہیں ہے۔ کونسل کے اس سخت اور واضح موقف نے شرپسندوں کے اس نام نہاد غبارے سے ہوا نکال دی ہے جو خود کو عوامی نمائندہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔