کشمیر کے غیر جانبدار بزرگان کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے بڑا مطالبہ؛ راولاکوٹ اور کوٹلی حملوں کے ملزمان کو قانون کے حوالے کرنے کا حکم
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے غیر جانبدار بزرگان کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے سامنے اہم ترین مطالبات کی فہرست رکھ دی گئی ہے۔ ان مطالبات میں صوبے میں امن و امان کی بحالی، ریاستی رٹ قائم کرنے اور سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کو فوری طور پر قانون کے حوالے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
بزرگانِ کشمیر کا کہنا ہے کہ سیاسی اور آئینی دائرے میں رہ کر مطالبات پیش کرنا سب کا حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
شرپسند عناصر کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کے مطالبات
مکتوب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں:
سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ حملہ اور سب انسپکٹر کی شہادت
سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر، بالخصوص وہ 14 افراد جو پولیس کے سب انسپکٹر کو برہنہ کرنے، ان کا پیٹ چاک کر کے انہیں شہید کرنے اور دو کانسٹیبلز پر وحشیانہ تشدد کے ذمہ دار ہیں، انہیں فوری طور پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔ ہسپتال میں داخل ہونے والے دیگر افراد بھی خود کو قانون کے حوالے کریں، انہیں مروجہ ملکی قوانین کے تحت منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) کا مکمل حق دیا جائے گا۔
کوٹلی میں رینجرز پر فائرنگ کا واقعہ
کوٹلی میں رینجرز (Rangers) پر فائرنگ کرنے والے ان عناصر کو فوراً گرفتار کروایا جائے جن کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 بے گناہ راہگیر شہید ہوئے تھے۔
کھائی گلہ پولیس چیک پوسٹ پر حملہ
5 اور 6 جون کی درمیانی شب کھائی گلہ میں پولیس چیک پوسٹ (CP) پر حملہ کرنے والے تمام افراد کو قانون کے حوالے کیا جائے تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکے۔
راستوں کی بحالی اور عوامی زندگی کا تحفظ
بزرگانِ کشمیر نے لانگ مارچ کے نام پر ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے والے اقدامات کی نشاندہی کی:
- سڑکوں کی بندش کا خاتمہ: راستوں میں درخت کاٹ کر اور سڑکیں اکھاڑ کر آمد و رفت معطل کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، کیونکہ ان کی وجہ سے پورے خطے میں اشیائے خور و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
- ریاست کے خلاف لشکر کشی کا خاتمہ: 'لانگ مارچ' کا اردو مفہوم 'لشکر کشی' ہے۔ ریاست کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے اور سنجیدہ قیادت کو سیاسی و قانونی دائرے میں رہ کر بات چیت کرنی چاہیے۔
- سہولت کار کارڈ اور نفرت انگیز بیانات کی روک تھام: پاکستان سے محبت کرنے والے آزاد کشمیر کے شہریوں کو 'سہولت کار' کا لیبل دے کر ان کے قتل پر اکسانے والے عناصر کا محاسبہ کیا جائے اور مستقبل میں اس طرزِ عمل سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
جے اے اے سی (JAAC) کی تنظیمِ نو کی تجویز
مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز اور منظم بنانے کے لیے غیر جانبدار بزرگان نے ایکشن کمیٹی کو اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا مشورہ دیا ہے:
- اہم تنظیمی تبدیلی: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اپنی کور کمیٹی کے ارکان کی تعداد کو 33 سے کم کر کے صرف 10 تک محدود کرے۔
- اس کے ساتھ ہی ایک بااختیار نمائندہ نامزد کیا جائے جو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور طے شدہ شرائط کی پاسداری کا مکمل ذمہ دار ہو۔