کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا جھٹکا

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا جھٹکا

Jun 24, 2026|ویب ڈیسک

میرپور: آزاد جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر افراتفری اور انتشار پھیلانے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اس وقت شدید ترین تنظیمی دھچکا لگا جب کمیٹی کے دو مرکزی کور ممبران رضوان کرامت اور بلال شیخ نے تحریک سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ میرپور سے تعلق رکھنے والے ان سینیئر ارکان نے اپنے باقاعدہ ویڈیو پیغامات میں کالعدم کمیٹی کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں سے اس انتشاری ایجنڈے کو یکسر مسترد کرنے کی اپیل کی ہے۔

تحریک نے بلیک میلنگ شروع کر دی ہے: رضوان کرامت

جموں و کشمیر ورکرز پارٹی کے سابق صدر اور کالعدم کمیٹی کے کور ممبر رضوان کرامت نے اپنے ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ سستے آٹے اور سستی بجلی کے نام پر شروع ہونے والا یہ سفر اب مکمل طور پر سیاسی بلیک میلنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

رضوان کرامت نے کشمیری عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات سامنے رکھے:

نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا حربہ: یہ تحریک اب معصوم کشمیری نوجوانوں کو ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا ایک منظم آلہ کار بن چکی ہے۔

قیادت محفوظ، عام آدمی پریشان: جو لوگ آج معصوم عوام کو سڑکوں پر مشتعل کر رہے ہیں وہ خود محفوظ مقامات پر بیٹھے ہیں، جبکہ عام آدمی اور نوجوان اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

قطعی علیحدگی: ان ملک دشمن حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں واضح طور پر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔

دشمن کا ایجنڈا اور اندرونی صفوں میں بھگدڑ

کمیٹی کے ایک اور اہم ترین رکن بلال شیخ نے بھی تحریک کو خیرباد کہتے ہوئے کہا کہ جو مہم کبھی عوامی ریلیف کے لیے بنی تھی، وہ اب خالصتاً دشمن کے ایجنڈے پر کاربند ہو چکی ہے، اس لیے آج کے بعد میرا اس انتشاری ٹولے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مرکزی ارکان کا مسلسل بائیکاٹ: یاد رہے کہ کور ممبر بلال شیخ اور رضوان کرامت سے قبل افتخار محمود، انجم زمان اور امجد علی خان ایڈووکیٹ جیسے اہم رہنما بھی اس کالعدم کمیٹی کے منفی رویوں سے متنفر ہو کر اس سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔


سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، عوامی حقوق کی آڑ میں تخریب کاری کا ایجنڈا بے نقاب ہونے کے بعد ایکشن کمیٹی اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے جہاں اس انتشاری کمیٹی کو مسترد کیا ہے، وہیں خود ان کے اپنے بانی ارکان کا یوں ناطہ توڑنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب کشمیر میں انتشار کی کوئی جگہ نہیں ہے