مقبوضہ کشمیر کی تاریخ مسخ کرنے کی سنگین بھارتی کوشش، لائبریریوں اور تعلیمی اداروں پر کریک ڈاؤن

مقبوضہ کشمیر کی تاریخ مسخ کرنے کی سنگین بھارتی کوشش، لائبریریوں اور تعلیمی اداروں پر کریک ڈاؤن

Jul 28, 2026|ویب ڈیسک

سرینگر (ویب ڈیسک): بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخی حقائق کو مٹانے اور کشمیریوں کے فکری و تاریخی ورثے کو مسخ کرنے کی ایک اور سنگین کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) کے اداریے کے مطابق، بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی کی عوامی لائبریریوں اور تعلیمی اداروں میں کتابوں اور ڈیجیٹل آرکائیوز کا بڑے پیمانے پر آڈٹ شروع کر دیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے نام نہاد "قوم مخالف"، "علیحدگی پسند" یا "قابل اعتراض" قرار دیے گئے تمام مواد اور کتابوں کو فوری طور پر ہٹانے کے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔


کتابوں پر پابندی، اہلکاروں کی معطلی اور پبلشرز بلیک لسٹ

بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے اعتراض پر ریاست میں شدید تعلیمی اور فکری سنسرشپ نافذ کی جا رہی ہے:


کتابوں کی واپسی: 250 سے زائد اسکولوں میں تقسیم کی گئی دو اہم تاریخی کتابوں کو فوری طور پر واپس لینے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔


سرکاری کارروائی: کتابوں کے معاملے پر محکمہ تعلیم کے 8 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ مصنفین اور پبلشرز کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔


پبلشرز پر پابندی: دونوں متعلقہ پبلشرز کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور ان کی سابقہ شائع شدہ تمام کتابوں کو بھی مارکیٹ سے فوری طور پر سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔


کشمیری دانشوروں اور میرواعظ عمر فاروق کا شدید ردعمل

بھارتی انتظامیہ کے اس قدم پر مقبوضہ وادی کے علمی و سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے:


کشمیری دانشوروں کا احتجاج: دانشوروں کے مطابق لائبریریوں کا یہ آڈٹ تعلیمی آزادی اور تنقیدی تحقیق کے خلاف بھارتی ریاست کی نئی مہم کا حصہ ہے۔


میرواعظ عمر فاروق کا بیان: حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "کتابوں پر پابندیاں عائد کرنے سے تاریخی حقائق اور کشمیری عوام کی اجتماعی یادیں مٹائی نہیں جا سکتیں۔"


2019 کے بعد سے بڑھتی ہوئی سنسرشپ: مڈل ایسٹ آئی کا تجزیہ

مڈل ایسٹ آئی کے تجزیے کے مطابق، اگست 2019 میں آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں سنسرشپ، عوامی نگرانی اور فکری آزادیوں پر پابندیوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔


گذشتہ برس بھارتی انتظامیہ نے 25 سے زائد اہم کتب پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ رواں سال تعلیمی اداروں کی لائبریریوں کا متنازعہ آڈٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب تعلیمی اور فکری اداروں پر اپنا غاصبانہ کنٹرول مزید سخت کر رہی ہے