آئی جی آزاد کشمیر کا پرتشدد اور ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات سے دوٹوک انکار

آئی جی آزاد کشمیر کا پرتشدد اور ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات سے دوٹوک انکار

Jul 19, 2026|ویب ڈیسک

مظفر آباد – انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد جموں و کشمیر پولیس نے خطے میں امن و امان تباہ کرنے والے پرتشدد اور ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ آئی جی پولیس نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے والے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے ظالموں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

انہوں نے فورس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام عسکریت پسندوں کو سیاسی حل دینا نہیں بلکہ ریاست کی رٹ قائم کرنا ہے۔

شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والوں سے کوئی نرمی نہیں ہوگی، آئی جی پولیس

آئی جی آزاد جموں و کشمیر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہونے والے وحشیانہ حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شرپسندوں نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا:

قاتلوں سے کوئی بات چیت نہیں: کیا کوئی اپنے بھائی کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ پولیس اہلکاروں کو بے دردی سے شہید کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔

سیاسی حل سیاستدانوں کا کام: پولیس کا کام سیاسی حل نکالنا نہیں ہے، سیاسی حل ہمیشہ سیاست دانوں کے ساتھ نکالا جاتا ہے، فورسز کا کام صرف جرائم کا خاتمہ ہے۔

گردنیں اتارنے کی دھمکیاں: شرپسند عناصر کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی گردنیں اتارنے اور لاشیں گرانے کی کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

معصوم شہریوں پر تشدد: ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی

آئی جی پولیس نے انکشاف کیا کہ یہ شرپسند عناصر اب صرف سیکیورٹی اداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ عام اور معصوم شہریوں کو بھی درندگی اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

"ماں کے جنازے پر جانے والے ایک بے قصور شہری کو ان عناصر نے اغوا کیا اور بدترین تشدد کر کے اس کی ٹانگیں توڑ دیں۔ ایسے ظالموں کے ساتھ کسی سیاسی حل یا ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔" — آئی جی، آزاد جموں و کشمیر پولیس

عوام کا تحفظ اولین ترجیح: معصوم شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ریاست اپنی پوری طاقت استعمال کرے گی۔

سپلائی چین اور راستوں کی بحالی: پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔

قانونی کارروائی کا آغاز: پولیس اہلکاروں کی شہادت اور شہریوں کے اغوا میں ملوث تمام شرپسندوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے