حریت وفد کی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات: مسئلہ کشمیر اور حقِ خودارادیت پر گفتگو
گلگت – کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات کی ہے۔ اس اہم ملاقات میں مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، ریاست جموں و کشمیر کی وحدت اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سمیت اہم علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کا بنیادی مقصد کشمیر کاز کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوامی اور حکومتی مؤقف کو واضح کرنا اور مستقبل کی حکمت عملی پر یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
گلگت بلتستان جموں و کشمیر کی وحدت پر یقین رکھتا ہے، وزیر اعلیٰ
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے حریت وفد کو یقین دلایا کہ خطے کے عوام اور حکومت ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور تاریخی وحدت پر مکتمل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ آئینی امور پر بات کرتے ہوئے کہا:
پروویژنل الحاق کی حقیقت: گلگت بلتستان اسمبلی سے منظور ہونے والی پاکستان کے ساتھ پروویژنل (عارضی) الحاق کی قرارداد کا مقصد صرف انتظامی نوعیت کا ہے، اس سے کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
حقِ خودارادیت پر کوئی اثر نہیں: عارضی الحاق سے کشمیریوں کے بنیادی حقِ خودارادیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
استصوابِ رائے کی حمایت: گلگت بلتستان کے عوام خود کو حقِ خودارادیت کے عالمی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں اور اقوام متحدہ کے تحت استصوابِ رائے کے حامی ہیں۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہیں، غلام محمد صفی
کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام اکائیوں کے حقوق برابر ہیں۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کو کشمیریوں کی خواہشات سے مشروط کیا۔
"اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو استصوابِ رائے کا مساوی حق حاصل ہے۔" — غلام محمد صفی، کنوینئر حریت کانفرنس
ملاقات کے اہم نکات اور اعلامیہ
اصولی مؤقف کا اعادہ: دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور دیرپا حل صرف اور صرف کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ممکن ہے۔
علاقائی امن و امان: ملاقات میں مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورتحال اور خطے کے امن پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔
تعاون کا اعتراف: حریت وفد نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کی مسلسل حمایت کرنے پر گلگت بلتستان کے عوام اور قیادت کے اصولی مؤقف کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔