حکمت عملی میں تبدیلی یا احتجاج کا خاتمہ؟ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ میں دھرنا گاہیں خالی کرا دیں

حکمت عملی میں تبدیلی یا احتجاج کا خاتمہ؟ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ میں دھرنا گاہیں خالی کرا دیں

Jun 12, 2026|ویب ڈیسک

راولاکوٹ – جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاجی دھرنے کے حوالے سے رات گئے ایک انتہائی اہم اور غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے گرد قائم دونوں مرکزی دھرنا مقامات کو ایکشن کمیٹی نے اچانک خالی کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔

 سنگین سکیورٹی خدشات کے باعث دھرنا گاہیں خالی کرنے کا اعلان

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھرنا گاہ کے مرکزی اسٹیج سے رات گئے اچانک یہ اعلان کیا گیا کہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر تمام شرکاء گراؤنڈ فوری طور پر خالی کر دیں۔ اس ہنگامی اعلان کے بعد دھرنے کے دونوں مقامات پر موجود مجمع منتشر ہونا شروع ہو گیا جبکہ منتظمین نے اسٹیج اور دیگر انتظامی ڈھانچے بھی ہٹا دیے۔

حکومت اور کمیٹی کے درمیان بیک چینل رابطوں کی افواہیں

موجودہ صورتحال کے باوجود تاحال عوامی ایکشن کمیٹی یا آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے دھرنا مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی باضابطہ یا تحریری اعلان سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح، سیکیورٹی حلقوں یا حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان کسی بیک چینل رابطے یا خفیہ مذاکرات کی بھی کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، اگرچہ مقامی سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔

 احتجاج کی عارضی معطلی یا پس پردہ معاہدہ؟

سیاسی مبصرین اور ذرائع اس اچانک فیصلے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں:

عارضی فیصلہ: ایک امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے یا فورسز کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے شرکاء کو عارضی طور پر گھروں کو واپس بھیجا گیا ہو، اور احتجاج کا سلسلہ دن کے آغاز کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے۔

حکمت عملی میں تبدیلی: یہ بھی ممکن ہے کہ ایکشن کمیٹی نے اپنے احتجاج کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔

موجودہ صورتحال اور بے یقینی کا ماحول

اس وقت تک کی مصدقہ زمینی صورتحال یہی ہے کہ راولاکوٹ کے دونوں بڑے دھرنا مقامات مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے مستقبل، اگلے مرحلے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے حتمی لائحہ عمل کے بارے میں تاحال شدید بے یقینی برقرار ہے