حکومت کا آزاد کشمیر کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم
اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کے حالیہ سیاسی و سماجی معاملے پر امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کی سفارتی ثالثی اور کردار کا کھلے دل سے خیرمقدم کرے گی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ لازوال ہے اور اس حساس ترین معاملے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا ابہام کو ہرگز موقع نہیں ملنا چاہیے۔
مذاکرات کا پس منظر اور 2 سے 38 مطالبات کا سفر
رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کشمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
ایکشن کمیٹی کے آغاز میں صرف 2 اہم مطالبات تھے جن پر بات چیت شروع کی گئی۔
حکومتی کمیٹی نے جب باقاعدہ ڈائیلاگ کا آغاز کیا تو مطالبات کی تعداد بڑھا کر 38 مطالبات پیش کر دیے گئے۔
امن و امان اور کشمیری عوام کے وسیع تر مفاد میں حکومتی کمیٹی نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ان تمام مطالبات کو منظور کر لیا۔
ساڑھے تین روپے فی یونٹ بجلی: آزاد کشمیر کے لیے تاریخی ریلیف
مشیرِ سیاسی امور نے یاد دلایا کہ ایکشن کمیٹی نے ایک سال پہلے کشمیر میں جلاؤ گھیراؤ اور شدید احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ حکومت نے عوامی فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں وہ ریلیف دیا جو پاکستان کے کسی دوسرے حصے میں میسر نہیں ہے۔
بجلی کے نرخوں کا موازنہ: رانا ثنا اللہ کے مطابق اس وقت پورے آزاد کشمیر میں فی یونٹ بجلی کی قیمت محض ساڑھے 3 روپے ہے، جبکہ آج پاکستان کے دیگر صوبوں میں فی یونٹ بجلی کا اصل ریٹ اور عوامی مشکلات سب کے سامنے ہیں