حکومتی ٹیم سے مذاکرات کامیاب، آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان

حکومتی ٹیم سے مذاکرات کامیاب، آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان

Jul 16, 2026|ویب ڈیسک

مطالبات کی منظوری کے لیے 21 جولائی تک کا الٹی میٹم، بلاول بھٹو کی نگرانی میں بڑا بریک تھرو

مظفرآباد — آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی وفد کے درمیان طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کے بعد لانگ مارچ کو باضابطہ طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، فریقین کے درمیان مذاکرات انتہائی مثبت ماحول میں مکمل ہوئے تاہم ایکشن کمیٹی نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر 21 جولائی تک ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 22 جولائی کو دوبارہ مارچ شروع کر دیا جائے گا۔

لانگ مارچ مؤخر کرنے کی شرائط اور مطالبات

ایکشن کمیٹی نے دھرنا اور مارچ ختم کرنے کے عوض حکومت کے سامنے انتہائی سخت شرائط رکھی ہیں جن پر عمل درآمد کے بعد ہی احتجاجی تحریک مکمل ختم ہوگی۔

مقدمات کا خاتمہ: تحریک کے دوران کارکنان پر قائم تمام مقدمات فی الفور ختم کیے جائیں اور ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

انتخابات کا التوا: کمیٹی کی جانب سے 27 جولائی کو ہونے والے مقامی انتخابات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی مذاکرات کا حصہ رہا۔

قافلوں کی واپسی: طے پایا ہے کہ تمام احتجاجی قافلوں کے راولاکوٹ پہنچنے پر کور کمیٹی کے ارکان باقاعدہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔

راولاکوٹ مذاکرات اور بلاول بھٹو کا کردار

اس اہم بریک تھرو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں حکومتی وفد بدھ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظفرآباد سے راولاکوٹ پہنچا، جہاں ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے تقریباً چھ گھنٹے مذاکرات ہوئے۔

بلاول بھٹو زرداری مظفرآباد میں موجود رہ کر خود اس پورے عمل کی نگرانی کرتے رہے۔ مذاکراتی کامیابی پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا، "ریاست امن کا گہوارہ ہے، ہم کب تک اس امن کو اپنے ہی خون سے داغدار ہوتا دیکھتے رہیں گے؟ یہ سلسلہ اب یہیں رک جانا چاہیے