گلگت بلتستان کا 158 ارب 54 کروڑ روپے کا بجٹ پیش، گندم سبسڈی برقرار

گلگت بلتستان کا 158 ارب 54 کروڑ روپے کا بجٹ پیش، گندم سبسڈی برقرار

Jul 13, 2026|ویب ڈیسک

گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 ارب روپے کا اضافہ؛ وفاق سے 188 ارب روپے کی گرانٹس ملنے کی توقع

​گلگت (ویب ڈیسک): گلگت بلتستان کا مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ پیش کر دیا گیا ہے، جس کا مجموعی حجم 158 ارب 54 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ نئے بجٹ کا حجم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 12 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، اور عوامی ریلیف خصوصاً آٹے کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

​حکام کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے دوران گلگت بلتستان کو وفاق سے 188 ارب روپے کی غیر ترقیاتی گرانٹس ملنے کی توقع ہے، جبکہ مقامی محصولات (Local Revenue) کی مد میں 6 ارب 80 کروڑ روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عوامی ریلیف اور گندم پر خطیر سبسڈی

​عوام کو سستے آٹے کی فراہمی اور ریلیف برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں بڑے اقدامات شامل ہیں:

​گندم سبسڈی: گندم کی سبسڈی کے لیے 27 ارب 57 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

​آٹے کی قیمتوں میں استحکام: آٹے کی موجودہ قیمت برقرار رکھنے کے لیے مزید 15 ارب روپے کا خصوصی فنڈ رکھا گیا ہے۔

​ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ: گندم ذخیرہ کرنے کے نظام (Wheat Storage System) کی بہتری کے لیے 15 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

جاری اخراجات، تنخواہیں اور پنشنز

​مالی سال 2026-27 میں جاری اخراجات (Running Expenditures) کے لیے مجموعی طور پر 67 ارب 86 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں:

​تنخواہیں اور الاؤنسز: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے 15 ارب 22 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

​دفاتر اور بنیادی خدمات: سرکاری دفاتر کے انتظامی امور اور سروس ڈیلیوری کے لیے 38 ارب ایک کروڑ روپے سے زائد مختص ہیں۔

​ملازمین کے واجبات: سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 10 کروڑ جبکہ جی پی فنڈ (GP Fund) کے لیے 25 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

صحت، ایمرجنسی فنڈز اور قدرتی آفات سے نمٹنے کا پلان

​جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خصوصی بجٹ رکھا گیا ہے:

​ڈیزاسٹر مینجمنٹ: قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال کے لیے 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

​بھاری مشینری کی خریداری: لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور ریسکیو آپریشنز کے لیے 77 کروڑ روپے کی بھاری مشینری خریدی جائے گی۔

​ہیلتھ سیکٹر اپ گریڈ: صحت کے شعبے میں اضافی ادویات کے لیے 30 کروڑ، نئی ایمبولینسوں کے لیے 10 کروڑ، اور غریب مریضوں کے مفت علاج کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر ہیں۔

​وزیراعظم خصوصی پروگرام: وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پروگرام کے تحت خطے کے لیے 97 کروڑ 33 لاکھ روپے کی رقم رکھی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال کے لیے 50 کروڑ روپے کا ایمرجنسی فنڈ بھی موجود ہے۔