وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ارکان اسمبلی پیشگی اجازت کے بغیر ملاقات کے لیے مستثنیٰ قرار
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے عوامی نمائندوں کی رسائی کو مزید آسان بنانے اور حکومت و اسمبلی کے مابین انتظامی روابط کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کے تمام معزز ارکان کو اب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے کسی بھی قسم کی پیشگی اجازت یا باقاعدہ اپائنٹمنٹ لینے کی شرط سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی عملے کو ارکان اسمبلی کے لیے بلا تاخیر رسائی کی سخت ہدایات
اس اہم فیصلے کے فوری نفاذ کے لیے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی اور پروٹوکول عملے کو باضابطہ اور سخت احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
بغیر رکاوٹ انٹری: جب بھی کوئی رکن اسمبلی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے پہنچے، اسے کسی بھی سیکیورٹی چیک یا دفتری تاخیر کے بغیر اندر جانے کی اجازت ہوگی۔
فوری سہولت کاری:
عملے کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ معزز ارکان کو بلا تاخیر مکمل سفارتی اور انتظامی سہولیات فراہم کریں۔
منتخب نمائندوں کے لیے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں: امجد حسین
وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوامی شکایات اور ترقیاتی امور پر فوری پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان رابطوں کو زیادہ فعال اور تیز رفتار بنایا جائے۔
"ارکان اسمبلی عوام کے حقیقی نمائندے ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے دروازے ان کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت عوامی مفاد سے متعلق معاملات پر بلا جھجک تشریف لا سکتے ہیں۔"
اس فیصلے کو گلگت بلتستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں گورننس کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔