غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی 23ویں برسی: مقبوضہ و آزاد کشمیر اور پاکستان میں خراجِ عقیدت
مظفر آباد / اسلام آباد (ویب ڈیسک)
بانیٔ آزاد کشمیر اور غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی 23ویں برسی کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان بھر میں انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ سردار محمد ابراہیم خان کی سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد اور سفارتی خدمات تاریخِ کشمیر کا ایک زریں اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ وہ محض ایک عوامی رہنما نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کی ریاستی، آئینی اور ادارہ جاتی بنیادیں رکھنے والے معمارِ ریاست تھے۔
ڈوگرہ راج کے خلاف تاریخی مزاحمت اور قراردادِ الحاقِ پاکستان
سردار محمد ابراہیم خان کی بصیرت افروز قیادت نے ڈوگرہ راج کے غاصبانہ تسلط کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کو ایک واضح سیاسی اور آئینی سمت فراہم کی، جس کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
تاریخی پیشرفت:
19 جولائی 1947: سردار محمد ابراہیم خان کی رہنمائی میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کی گئی۔
پونچھ تحریکِ آزادی: ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے زیرِ اثر پونچھ کی تاریخی تحریک کامران ہوئی اور 24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔
پانچ دہائیوں کا انتظامی سفر اور سفارتی معرکے
تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فعال سیاسی کیریئر میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے جدید انتظامی اور آئینی ڈھانچے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
معاہدۂ کراچی (1949): انہوں نے 1949 کے تاریخی کراچی معاہدے پر دستخط کر کے ریاستی معاملات کو پائیدار بنیادیں فراہم کیں۔
بین الاقوامی سفارت کاری: اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو نہایت مدلل اور مؤثر انداز میں پیش کر کے کشمیریوں کے موقف کی ترجمانی کی۔
آخری آرام گاہ اور قومی یادگار
سردار محمد ابراہیم خان 31 جولائی 2003 کو اسلام آباد میں وفات پا گئے تھے، جس کے بعد انہیں راولاکوٹ میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی آئینی، سیاسی اور سفارتی خدمات آج بھی کشمیری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔