گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال: وزیر اعلیٰ امجد حسین کا ہنگامی الرٹ، تمام محکموں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا حکم
گلگت (ویب ڈیسک): گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ موصلادھار بارشوں، گلیشیئرز پگھلنے اور سیلابی ریلوں کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جا سکے۔
بنیادی سہولیات اور طبی امداد کی بلا تعطل فراہمی
وزیر اعلیٰ نے محکمہ خوراک اور محکمہ صحت کو ہنگامی بنیادوں پر تحرک کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں راشن، پینے کے صاف پانی، خیموں اور ضروری ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
رابطہ سڑکوں کی بحالی اور بھاری مشینری کی متحرک سازی
سیلابی ریلوں سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر اور آمد و رفت کے نظام کو بحال کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے:
شاہراہوں کی مرمت: متاثرہ پلوں، مرکزی شاہراہوں اور ذیلی رابطہ سڑکوں کی فوری مرمت۔
ہیوی مشینری کا استعمال: سڑکوں سے ملبہ ہٹانے اور آمد و رفت کی بحالی کے لیے بھاری مشینری کو فوری طور پر میدان میں اتار دیا گیا ہے۔
اداریہ جاتی رابطہ: گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA) اور ضلعی انتظامیہ کو این ڈی ایم اے (NDMA) کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے۔
"صوبائی حکومت اپنے عوام کو اس مشکل گھڑی میں ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی۔ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔" — امجد حسین، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
میدانی جائزہ اور روزانہ کی رپورٹنگ
وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود دفاتر سے نکل کر میدانی علاقوں کا دورہ کریں اور امدادی سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی کریں۔ تمام اضلاع کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ امدادی کاموں کی تفصیلی مانیٹرنگ رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر چیف منسٹر سیکریٹریٹ کو ارسال کریں۔