ضلع دیامر میں شدید بارشوں کے بعد فلیش فلڈ
چلاس (ویب ڈیسک) — 13 جولائی 2026: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں اچانک ہونے والی شدید اور طوفانی بارشوں کے بعد مختلف علاقوں میں ہولناک فلیش فلڈ (سیلابی ریلوں) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث شاہراہِ قراقرم (KKH) متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور کیچڑ کے بہاؤ کی وجہ سے بلاک ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہر قسم کی ٹریفک مکسر معطل ہے اور ہزاروں مسافر شاہراہ پر بے یارومددگار پھنسے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ اور متعلقہ قدرتی آفت سے نمٹنے والے اداروں (ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور بند راستوں کو کھولنے کے لیے بھاری مشینری روانہ کر دی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
فلیش فلڈ سے شدید متاثرہ علاقے اور نقصانات کی تفصیلات
مقامی ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے:
شدید متاثرہ مقامات: چلاس شہر، بوندر نالہ، کھنبیری، بابوسر، بٹوگا، تھور اور سنیت کے اضلاع اور وادیاں سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔
انفراسٹرکچر کی تباہی: تیز رفتار سیلابی ریلوں کی وجہ سے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جبکہ متعدد رابطہ سڑکیں اور اہم تعمیراتی مقامات (کنسٹرکشن سائٹس) سیلاب برد ہو چکے ہیں۔
مسافروں کی مشکلات: قراقرم ہائی وے (KKH) کی بندش کے باعث گلگت بلتستان آنے اور جانے والے ہزاروں مقامی و غیر مقامی مسافر اور سیاح مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں انتظامیہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے مزید نقصانات کی تفصیلی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور ریسکیو ٹیمیں صورتحال کا مکمل جائزہ لے کر نقصانات کی باقاعدہ رپورٹ مرتب کر رہی ہیں