مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اٹھانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی، حریت وفد سے ملاقات میں رانا قاسم نون کا عزم
اسلام آباد: وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون سے آل پارٹیز حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں تفصیلی ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال، 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ و غیر قانونی اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز اور کشمیری عوام پر عائد پابندیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیکیورٹی چیلنجز اور اہم ترین تزویراتی شرکتِ بانی
حریت وفد نے چیئرمین کو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس اہم مشاورتی اجلاس میں حریت قیادت کے ساتھ ساتھ مقتدر قانونی و تزویراتی ماہرین نے بھی شرکت کی۔
حریت وفد کے شرکاء: محمد فاروق رحمانی، محمود احمد ساغر، مسز شمیم شال، شیخ محمد یعقوب، الطاف احمد بٹ، شیخ عبدالمتین، راجہ خادم حسین اور امتیاز وانی۔
حکومتی و قانونی ماہرین: بیرسٹر سندس ملک (ماہرِ قانون و انسانی حقوق)، ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ (ایگزیکٹو ڈائریکٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر آزاد کشمیر) اور سید محمد نعمان شاہ (ڈائریکٹر جنرل پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر)۔
ملاقات کے اہم فیصلے اور تزویراتی نکات
1. کشمیر کاز کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی
رانا محمد قاسم نون نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کشمیری عوام کی مظلوم آواز کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔
2. آزاد خطے کے لیے تحریری تجاویز پیش
اس موقع پر حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے آزاد جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال کو دانشمندی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ حل کرنے سے متعلق وفد کے ارکان کی دستخط شدہ تحریری تجاویز اور سفارشات چیئرمین پارلیمانی کمیٹی کو پیش کیں۔
3. خطے کے مستقل امن کی ضمانت
چیئرمین کمیٹی نے کشمیری عوام کی طویل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے دیرینہ تنازعہ ہے، اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دونوں فریقین نے کشمیر کاز کے فروغ کے لیے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔